بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک شوہر اور تین بھائی کی میراث کے تقسیم


سوال

میری ہمشیرہ نے وراثت میں تین تولہ سونا چھوڑا ہے۔ وارثوں میں اس کا شوہر، ہم تین بھائی، ایک خالہ ہیں،مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں تھی، ہمارے والدین کا انتقال مرحومہ کی زندگی ہی میں ہو چکا تھا۔ اب ان تین تولہ سونے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

 

 

جواب

صورت مسئولہ میں  مرحومہ کا چھوڑا ہوا تین تولہ سونا مرحومہ کا ترکہ ہے، جسے مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء میں میراث کے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ  متقدمہ یعنی (کفن دفن کے اخراجات تو شوہر کے ذمہ ہوں گے، اس کے علاوہ) اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر  منقولہ کو چھ حصوں میں تقسیم کرکے تین حصے مرحومہ کےشوہرکو،  ایک ،ایک حصہ مرحومہ کے ہرایک بھائی کو ملے گا، جب کہ مرحومہ کی خالہ کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:(بہن)مسئلہ:6/2

شوہربھائیبھائیبھائی
11
3111

یعنی کل ترکہ کا 50 فیصد مرحومہ  کے شوہر کو ،16.666 فیصد مرحومہ کے ہرایک بھائی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102107

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں