
میرے سالے یعنی میری بیوی کے بھائی نے میرے والد سے 25 لاکھ روپے بطور قرض لیا تھا، اب میرے والد وفات پا چکے ہیں، سالے نے 15 لاکھ واپس کر دیا ہے، میرے سالے کہہ رہے ہیں کہ مجھے کاروبار میں نقصان ہوا، میں بقایہ رقم واپس نہیں کر سکتا، اب چونکہ میرے والد نہیں ہیں میرے گھر والے سالے کے اوپر بقایاقرض مجھ سے طلب کر رہے ہیں، اورمیری جائیداد کے حصے میں سے لینے کی دھمکی دے رہے ہیں، جبکہ میرا اس لین دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے، اگر میرے والد یہ معاملہ کسی اور سے کرتے، تو میرے گھر والے مجھ سے مطالبہ نہیں کرتے، میرے گھر والے صرف اس وجہ سے مجھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ میرے اس سالے کے ساتھ رشتہ ہے، نیز یہ بھی واضح رہے کہ اس قرض اور ایگریمنٹ میں نہ تومیرا نام شامل کیا تھا، اور نہ سالے کے ساتھ میرےرشتے کااس میں کوئی ذکر ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے گھر والے کا مجھ سے یہ مطالبہ درست ہے؟اور مجھے سے لینے کا حق ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ والد اورسالےکے درمیان معاملہ میں سائل کا کوئی واسطہ نہ ہو،صرف سالے کے ساتھ سائل کا رشتہ ہونے کی وجہ سے گھروالے سائل سے مطالبہ کررہےہیں، تو گھر والوں کا یہ مطالبہ شرعادرست نہیں ہے،گھر والے کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ سالے کے قرض کا مطالبہ سائل سے کریں، اور نہ سائل پر سالے کا قرض ادا کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ قرض کی رقم پوری ادا کرنا ضروری ہے، کاروبار میں نقصان ہونے سے قرض معاف نہیں ہوتا۔
مجمع الزوائد میں ارشاد نبویﷺ ہے:
"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."
"ابی حرۃ الرقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ کسی مسلمان کا مال اس کی رضاکے بغیر جائز نہیں۔"
(كتاب البيوع.، باب فيمن أخذ شيئا بغير إذن صاحبه، ج: 4، ص: 172، ط: مكتبة القاهرة)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101236
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن