
میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری عمر اسی (80) سال ہے اور میں گزشتہ چالیس (40) برس سے ایک پلازہ میں مقیم ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر کے تینوں باتھ رومز میں شدید سیپج آ رہی ہے، حتیٰ کہ میرے سر کے اوپر سے گندا پانی گر رہا ہے، جس کی وجہ سے مجھے سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ چھت کمزور ہو چکی ہے اور جان کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اس خرابی کی اصل وجہ اوپر والے فلیٹ سے آنے والا گندا پانی ہے، جو ان کی لائن کی خرابی کی وجہ سے آرہا ہے۔ بارہا کہنے اور توجہ دلانے کے باوجود اوپر رہنے والے اس مسئلے کو حل نہیں کر رہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اوپر والے فلیٹ کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا ان پر اپنی لائن درست کرنا ضروری ہے یا نہیں، جس کی وجہ سے سیپیج ہورہی ہے ؟
وضاحت: ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ لائن کی مرمت کی جائے یا تبدیل کی جائے تاکہ ہمیں پریشانی نہ ہو اور چھت مزید کمزور ہو گرے نہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں اوپر منزل والوں کی لائن کی خرابی کی وجہ سے سیپیج ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سائلہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور چھت بھی کمزور ہورہی ہے تو اوپر والوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی لائن درست یا تبدیل کریں تاکہ ان کی وجہ سے نیچے والوں کو تکلیف نہ ہو اور ان کی چھت کو نقصان نہ پہنچے۔
مؤطا مالک میں ہے:
"مالك ، عن عمرو بن يحيى المازني ، عن أبيه ؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « لا ضرر ولا ضرار »."
(كتاب الأقضية، القضاء في المرفق، ج:4، ص:1078، ط:مؤسسة زايد بن سلطان،أبو ظھبي - الإمارات)
امام مالک روایت کرتے ہیں، عمرو بن یحییٰ مازنی سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نہ خود کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے میں نقصان پہنچانا۔"
فتاوی شامی میں ہے:
"يمنع صاحب سفل عليه علو) أي طبقة (لآخر من أن يتد) أي يدق الوتد (في سفله) وهو البيت التحتاني (أو ينقب كوة) بفتح أو ضم الطاقة وكذا بالعكسدعوى المجمع (بلا رضا الآخر)»
(قوله وكذا بالعكس إلخ) أي كما يمنع ذو السفل يمنع ذو العلو وعبارة المجمع وكل من صاحب علو وسفل ممنوع من التصرف فيه إلا بإذن الآخر وأجازه إن لم يضر به وفي العيني، وعلى هذا الخلاف إذا أراد صاحب العلو أن يبني على العلو شيئا أو بيتا أو يضع عليه جذوعا أو يحدث كنيفا اهـ، وكذا جعله في الهداية على الخلاف لكن في البحر عن قسمة الولوالجية اختلف المشايخ على قوله فقيل له أن يبني ما بدا له ما لم يضر بالسفل وقيل وإن أضر والمختار للفتوى أنه إذا أشكل أنه يضر أو لا لا يملك وإذا علم أنه لا يضر يملك."
(کتاب القضاء، باب كتاب القاضي إلى القاضي، مسائل متفرقة، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100193
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن