
میں نے اپنی بیوی کو ان الفاظ میں طلاق دی "کہ میں آپ کو اپنی زندگی سے بے دخل کرتا ہو،اوراللہ کو حاضر ناظرسمجھ کر آپ کو طلاق دیتاہوں ،طلاق دیتاہوں، طلاق دیتاہوں "آپ میری شرعی رہنمائی فرمائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟اور اب مجھے کیا کرنا چاہئے ؟میں نے اہل حدیث والوں سے فتوی لیا تو جواب ملا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
واضح رہےکہ قرآن کریم،احادیث مبارکہ، جمہورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین،اور چاروں ائمہ کرام(امام اعظم ابو حنیفہ ؒ ،امام شافعی ؒ، امام مالکؒ،اور امام احمد بن حنبل ؒ ) کے نزدیک اگر کوئی شحص ایک ہی مجلس میں اکھٹی تینوں طلاقیں دے دے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں،اکھٹی دی گئیں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیناصریح گمراہی ہے،ایسے فتوی پر عمل کرنا شرعا جائز نہیں ۔
مذکورہ تفصیل کی رو سے صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دےدیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،بیوی سائل پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اب رجوع جائز نہیں اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو ،اگر حمل ہوتو بچہ کی پیدائش تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے:
"الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "(البقرة: (229.230
’’ وہ طلاق دو مرتبہ (کی )ہے ، پھر خواہ رکھ لینا قاعدے کے موافق، خواہ چھوڑدینا خوش عنوانی کے ساتھ ... پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے۔‘‘ ) ترجمہ از بیان القرآن)
حدیث مبارک میں ہے:
"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول."
ترجمہ: ’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، عورت نے دوسری جگہ نکاح کیا اور دوسرے شوہر نے بھی طلاق دے دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! یہاں تک کہ دوسرا شوہر بھی اس کی لذت چکھ لے جیساکہ پہلے شوہر نے چکھی ہے۔‘‘
(صحيح البخاری، كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 300، ط: رحمانية)
حدیث مبارک میں ہے:
"قال سهل: فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغا قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاث."
ترجمہ"حضرت سھل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :کہ ہم لوگ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب یہ دونوں میاں بیوی "لعان" سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر اب بھی میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو گویا کہ میں نے اس پر زنا کی جھوٹی تہمت لگائی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی كو اسی وقت تين طلاقيں دیدیں۔"
(صحيح البخاری، كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، ج: 2، ص: 300، ط: رحمانية)
ارشاد نبوی ﷺ ہیں:
" أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا، ثم قال: أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ حتى قامارجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله.؟"
"یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دیدی ہیں تو آپ غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا : کیا کتاب اللہ کو کھلونا بنایا جائے گا حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟ ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟
(سنن النسائی، كتاب الطلاق، الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، ج: 2، ص: 99، ط: قدیمی کتب خانہ)
المصنف لابن أبي شيبہ میں روایت ہے:
"عن أنس قال: كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا وفرق بينهما."
"یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا شخص لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی ہوں تو آپ اس کی کمر پر کوڑے مارتے اور دونوں کے درمیان علیحدگی کرواتے۔"
(كتاب الطلاق، باب من كره أن يطلق الرجل امرأته ثلاثا، ج، 10، ص: 102: ط: دارالكنوز)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى....وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 232، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری ميں ہے:
"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز، أما الإنزال فليس بشرط للإحلال."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فيما تحل به المطلقة، ج: 1، ص: 473، ط، رشیدية)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضًا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ﴾ وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة ..... وإنما تنتهي الحرمة وتحل للزوج الأول بشرائط منها النكاح وهو أن تنكح زوجا غيره لقوله تعالى: ﴿حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ﴾"
(كتاب الطلاق، فصل في ما لو كان النكاح الثاني صحيحا: ج: 4، ص: 407، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101605
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن