بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 صفر 1448ھ 11 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک سال کے بچے کی قے اگر کپڑوں پر لگی ہو ان کپڑوں میں نماز کا حکم


سوال

 دودھ پینے والے ایک سال کے بچے کی قے کا کیا حکم ہے؟نیز اگر وہ الٹی ماں کے کپڑوں پر لگی ہو تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے، جب کہ ایک خاتون نے ان الٹی والے کپڑوں میں کئی نمازیں پڑھ لی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شیرخوار بچہ دودھ پیتے ہوئے یا دودھ  پینے کے بعد قے کردے، اگر قے منہ بھر کر ہو تو اس کا حکم بڑے آدمی کی قے کی مانند ہوگا، یعنی جسم یا کپڑےپر لگ جائے اور مقدار میں ایک  درہم  (ہاتھ کی ہتھیلی کے گڑھے:5.94 مربع سینٹی میٹر) سے زائدہو تو اس کا پاک کرنا ضروری ہے، پاک کیے بغیر ان کپڑوں میں نماز نہ ہوگی۔ اور اگر قے منہ بھر کر نہ ہو  (خواہ بالغ کی ہو یا نابالغ کی) تو وہ ناپاک نہیں ہے، دھوئے بغیر بھی نماز ہوجائے گی۔

نیز  اگر بچے نے دودھ پیتے ہوئے چھاتی پر قے کردی اور پھر بچے نے ہی  اُسے چوس کر پی لیا، تو پاک ہوگیا، اب دھونے کی ضرورت نہیں ہے، نیز بچہ دودھ پینے کے دوران (حلق سے نیچے دودھ اتارے بغیر) منہ سے ہی دودھ نکال دے، تو وہ قے کے حکم میں نہیں ہے، اسے بھی دھونا ضروری نہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں دودھ پیتا  بچہ اگر منہ بھر کر قے کرتا تھا تو وہ ناپاک تھی، اس صورت میں اگر کپڑوں پر وہ قے لگی ہونے کی صورت میں اگر ایک درہم کی مقدار سے زیادہ تھی، تو کپڑوں کے ناپاک ہونے کی وجہ  سے نماز نہیں ہوئی تھی، ان نمازوں کا اعادہ ضروری ہو گا۔

البتہ اگر دودھ پیتے بچے کی قے منہ بھر کر نہیں ہوتی تھی، یا بچہ دودھ پینے کے دوران (حلق سے نیچے دودھ اتارے بغیر) منہ سے ہی دودھ نکال دیتا تھا اور وہ ماں کے کپڑوں پر لگ جاتا تھا تو پھر ان کپڑوں میں پڑھی گئی نمازیں ادا ہو گئی ہیں، اسی طرح اگر بچہ قے کرنے کے بعد چھاتی سے چوس لیتا تھا، تو بھی نمازوں کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌وهو ‌نجس ‌مغلظ، ولو من صبي ساعة ارتضاعه، هو الصحيح لمخالطة النجاسة، ذكره الحلبي."

(كتاب الطهارة،سنن الوضوء، ج:1، 138، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"(يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) ... (بماء لو مستعملا) به يفتى (وبكل مائع طاهر قالع) للنجاسة ينعصر بالعصر ... حتى الريق، فتطهر أصبع وثدي تنجس بلحس ثلاثا.

قال عليه في الرد: (قوله: فتطهر أصبع إلخ) عبارة البحر: وعلى هذا فرعوا طهارة الثدي إذا قاء عليه الولد ثم رضعه حتى زال أثر القيء ... حتى لو صلى صحت ... وفي الفتح: صبي ارتضع ثم قاء فأصاب ثياب الأم إن كان ملء الفم فنجس، فإذا زاد على قدر الدرهم منع. وروى الحسن عن الإمام أنه لا يمنع ما لم يفحش؛ لأنه لم يتغير من كل وجه وهو الصحيح؛ وقدمنا ما يقتضي طهارته." 

(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج:2، ص:309، ط: سعيد)

فقط والله أعلم 


فتویٰ نمبر : 144802101084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں