
کیاعورت کی قبر میں اس کے شوہر اور غیر محرم کو اور مرد کی قبر میں اس کی بیوہ اور غیر محرم عورت کو دفن کرنا جائز ہے؟
پرانی قبر میں نئی میت کو رکھنا صرف اس صورت میں جائز ہے جب پرانی قبراتنی پرانی ہو جائے کہ میت بالکل مٹی بن جائے، اگر پرانی میت مٹی نہیں بنی تو اس میں دوسری میت کو دفن کرنا جائز نہیں ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کی مراد یہ ہے کہ مدفونہ عورت کی قبر کو کھول کر اس میں اس کے شوہریاغیر محرم کویا مدفون شوہر کی قبر کو کھول کر اس میں اس کی بیوہ یا غیر محرم عورت کو دفن کرناہے تو اگر اس میت کا اثر باقی ہو تو اس قبر کوکھولنا اور دوسرے میت کو دفن کرنا جائز نہیں۔
اور اگر سائل کی مراد ایک قبر میں متعدد میت کی تدفین ہے تو ایک قبر میں ایک سے زیادہ میتوں کوچاہے وہ میتیں آپس میں میاں بیوی، بھائی بہن، یا کوئی بھی رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں، بلاضرورتِ شدیدہ دفن کرنا جائز نہیں ہے،تاہم ضرورت شدیدہ مثلا وباء، آفات سماویہ کی صورت میں اگر اموات اس قدر زیادہ ہوجائیں کہ قبروں کے لیے جگہ میسر ہی نہ رہے تو اس صورت میں ایک قبر میں ایک سے زائد میتوں کی تدفین بقدرِ ضرورت جائز ہے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرتبہ میں افضل شخص کو قبلہ کی دیوار کی جانب لٹایا جائےپھر اس کے پیچھے مٹی کی آڑ بنا کر اس سے کم مرتبہ شخص کو ،اسی طرح اگر مرنے والوں میں مرد وزن اور بچے سب ہوں تومذکورہ طریقہ کے مطابق سب سے پہلے قبلہ کی دیوار کی جانب مردوں کو ،پھر بچوں کو اور پھر عورتوں کو لٹایا جائے،اسی طرح اگر کوئی قبر اتنی پرانی ہوگئی ہو کہ اس میں میت بالکل مٹی بن جائے، تو اس قبر میں دوسری میت کو دفن کرنا درست ہے،قبر کھولتے ہوئے اس میں اگر سابقہ میت کی ہڈیاں وغیرہ کچھ نکل آئیں تو انہیں قریب ہی دفن کردیا جائے یا اسی قبر میں ایک طرف علیحدہ کر کے ان ہڈیوں اور نئی میت کے درمیان مٹی کی آڑ بنادی جائے
فتاویٰ محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
اگر قبر اتنی پرانی ہو جائے کہ میت بالکل مٹی بن جائے تو اس قبر میں دوسری میت کو دفن کرنا درست ہے، ور نہ بلا ضرورت ایسا کرنا منع ہے اور بوقت ضرورت جائز ہے اور ایسی حالت میں جب میت کی ہڈیاں وغیرہ کچھ قبر میں موجود ہوں تو وہ ایک طرف علیحدہ قبر میں رکھ دی جائیں ، اگر میت بالکل صحیح سالم قبر میں موجود ہو تب بھی بوقت ضرورت اس کے برا بر قبر میں دوسری میت کو رکھنا جائز ہے لیکن میت قدیم اور میت جدید کے درمیان مٹی کی آڑ بنادی جائے۔
اگر ایک وقت میں چند مردوں کو ایک ہی قبر میں دفن کرنے کی ضرورت پیش آئے ، اگر سب مر دہوں یا سب عورتیں ہوں تب تو افضل کو اول لحد میں رکھا جائے اس کے بعد غیر افضل کو۔ اگر موتی مخلوط ہوں تو اول مرد کو رکھا جائے اس کے بعد لڑکے کو اس کے بعد خنثی کو اس کے بعد عورت کو ، اور ہر دو کے درمیان مٹی کی آڑ بنادی جائے ۔
(باب الجنائز، ج: 9، ص: 97، ط: جامعہ فاروقیہ)
فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں ہے:
پرانی قبر میں مردہ کو دفن کرنا جائز نہیں
سوال:پرانی قبر میں مردہ کو دفن کرنا جائز ہے یانہیں
پرانی قبر جس میں نشان میت کا باقی نہ رہے اس میں دوسری میت کو دفن کرنا درست ہے۔
(کتاب الجنائز، ج:5، ص: 263، ط:دار الاشاعت )
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يدفن اثنان في قبر إلا لضرورة، وهذا في الابتداء، وكذا بعده. قال في الفتح، ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب. "
(کتاب الصلوۃ، باب الجنائز،ج: 2، ص: 233، ط: سعید)
مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"ولا بأس بدفن أكثر من واحد" في قبر واحد "للضرورة" قال قاضيخان "ويحجز بين كل اثنين بالتراب" هكذا أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض الغزوات ولو بلي الميت وصار تراباً جاز دفن غيره في قبره، ولايجوز كسر عظامه ولا تحويلها ولو كان ذمياً، ولاينبش وإن طال الزمان."
(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ص: 227، ط: المكتبة العصرية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707101916
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن