بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں جمعہ پڑھنے والے کا دوسری مسجد میں صرف خطبہ دینے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز پڑھ چکا ہو اور پھر دوسری مسجد میں وہ صرف خطبہ پڑھے کہ اس مسجد کا امام خطبہ نہ پڑھ سکتا ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص ایک جگہ جمعہ پڑھ چکا ہو اسے دوسری جگہ جمعہ کا خطبہ نہیں دینا چاہیے، البتہ  دوسری جگہ اگر  خطبہ دینے والا  کوئی موجود نہ ہو  اورضرورت کی بنا پر صرف خطبہ دے دے اور نماز وہ شخص پڑھائے جس نے جمعہ ادا نہ کیا ہو، تو سب کی نماز صحیح ہو جائے گی ۔البتہ اسے معمول نہیں بنایا جائے، نیز جمعہ کی نماز جسے پڑھانی ہو،اسے ہی جمعہ کا خطبہ  پڑھنابھی  آنا چاہیے، اور عملاً خطبہ دینا چاہیے، اگرچہ کتاب سے پڑھ کر خطبہ کہے۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار میں ہے:

''(لا ينبغي أن يصلي غير الخطيب) لانهما كشئ واحد (فإن فعل بأن خطب صبي بإذن السلطان صلى بالغ جاز) هو المختار''

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ص: 111، ط: دار الكتب العلمية)

درر الحكام شرح غرر الأحكام میں ہے:

''لا ينبغي أن يصلي غير الخطيب ؛ لأن الجمعة مع الخطبة كشيء واحد فلا ينبغي أن يقيمها اثنان، وإن فعل جاز.

(خطب صبي بإذن السلطان وصلى بالغ جاز)، كذا في الخلاصة.''

(كتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج: 1، ص: 141، ط: دار أحياء الكتب العربية)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”جمعہ پڑھ کر دوسری مسجد میں خطبہ پڑھنا

سوال (۱۳۷۱۲ : محمود نے نماز جمعہ وخطبہ ادا کیا، بعد وہ دوسری مسجد میں امام نہ رہنے کی وجہ سے صرف خطبہ پڑھا نماز نہیں پڑھائی، تو خطبہِ جمعہ نماز جمعہ کے لئے درست ہوا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلياً:

صراحتاً یہ جزئیہ کہیں نہیں دیکھا، اتنا ضرور لکھتے ہیں کہ خطیب و امام کا ایک ہی شخص ہونا ضروری نہیں، البتہ اولی یہ ہے کہ جو شخص خطبہ پڑھے وہی جمعہ پڑھائے،ساتھ میں یہ بھی ہے کہ اگر نابالغ لڑکے نے ، خطبہ پڑھا اور بالغ نے جمعہ پڑھایا،تب بھی جمعہ ادا ہو جائے گا۔“

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعہ، ج:8، ص:268، ط:ادرة الفاروق)

نیز یہ بھی  ہے:

”ایک شخص کا دو جگہ خطبہ پڑھنا

سوال [۳۷۹۷] : جس امام نے خطبہ اور جمعہ کی نماز پڑھادی ہو وہ کچھ تاخیر سے کسی دوسری مسجد میں خطبہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ نماز کوئی اور پڑھا دے۔

الجواب حامداً ومصلياً :

وہ خطبہ نہ دے  ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔“

(کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعہ، ج:8، ص:269، ط:ادرة الفاروق)

آپ  کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

”خطبہ جمعہ زبانی پڑھنا مشکل ہو تو دیکھ کر پڑھے

سوال : خطبہ جمعہ میں خطیب اگر اکثر اوقات اٹک اٹک کر یا بھول کر ایسی غلطی کرلے کہ معانی بدل جائیں تو کیا اسے خطبہ کتاب میں دیکھ کر پڑھنے میں ترددہونا چاہئے؟

جواب :خطبہ اچھی طرح یاد کیا جائے ، یاد یکھ کر پڑھا جائے۔“

(جمعہ کی نماز،ج:4، ص:135، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101137

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں