
کیاایک مسجد میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے دو مرتبہ نمازِ عید ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟
نیز اگر امام اپنی جگہ تبدیل کرلے تو کیا اس کی گنجائش ہوگی؟
صورتِ حال یہ ہے کہ مسجد کشادہ نہیں، اس لیے ایک وقت میں تمام لوگ سما نہیں سکتے۔ عیدگاہ بھی موجود نہیں۔ مسجد کے باہر سڑک ہے، لیکن وہاں بریلوی حضرات نمازِ عید ادا کرتے ہیں، اس لیے وہاں نماز پڑھانا دشوار ہے، بلکہ اگر بمشکل نماز پڑھائی بھی جائے تو لڑائی جھگڑے اور فساد کا اندیشہ ہے۔ مزید یہ کہ قریب میں دیوبندی حضرات کی کوئی الگ مسجد بھی موجود نہیں۔ دوسری طرف مسجد کے اندر ایک ہی جماعت کی صورت میں جگہ کی تنگی کی وجہ سے بعض دیوبندی حضرات کو بریلوی حضرات کی اقتدا میں نماز پڑھنی پڑتی ہے۔
واضح رہے کہ عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھناسنت ہے،اگر عذر (بارش وغیرہ) ہو،تو بڑی جامع مسجد میں عید کی نماز اداکرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز ایک دفعہ جس جگہ (عیدگاہ اورجامع مسجد) عید کی نما زاداکرلی جائے، اسی مقام پر دوسری جماعت کرنامکروہ ہے، کیوں کہ جماعتِ ثانیہ کرنے سے جماعتِ اولیٰ کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے، جب کہ اصل تو جماعتِ اولیٰ ہی ہے، صحابہ کرام کا معمول بھی یہی تھا کہ جماعت نکل جانے کی صورت میں وہ مسجد میں انفرادی نماز ادا کیا کرتے تھے۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایک مسجد میں عید کی نماز ایک ہی دفعہ ادا کرنا چاہیئے ،اگر جگہ تنگ ہو تو جتنے لوگ مسجد میں سما سکیں وہ نماز ادا کرلیں ، اور بقیہ لوگ کسی دوسرے محلہ میں نماز ادا کرلیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها."
(باب العيدين، ج:2، ص: 166، ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله: ولم تقض إن فاتت مع الإمام) ؛ لأن الصلاة بهذه الصفة لم تعرف قربة إلا بشرائط لا تتم بالمنفرد فمراده نفي صلاتها وحده وإلا فإذا فاتت مع إمام وأمكنه أن يذهب إلى إمام آخر فإنه يذهب إليه؛ لأنه يجوز تعدادها في مصر واحد في موضعين وأكثر اتفاقا."
(كتاب الصلاة، بَابُ الْعِيدَيْنِ، ج: 2، ص:175، ط: دار الكتاب الإسلامي)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"قال: (وإذا دخل القوم مسجداً قد صلی فیه أهله کرهت لهم أن یصلوا جماعةً بأذان وإقامة، ولکنهم یصلون وحداناً بغیر أذان وإقامة)؛ لحدیث الحسن: قال: کانت الصحابة إذا فاتتهم الجماعة فمنهم من اتبع الجماعات، ومنهم من صلی في مسجده بغیر أذان ولا إقامة".
(كتاب الصلاة، باب الأذان، ج:1، ص:135، ط:دار المعرفة)
کفایت المفتی میں ہے:
"بارش کے عذر سے مسجد میں عید کی نماز پڑھنی جائز ہے ایک مسجد میں دو مرتبہ عید کی نماز نہ پڑھی جائے اگر ایک مسجد میں عید کی نماز پڑھی گئی اور کچھ لوگ رہ گئے تو وہ دوسری مسجد میں نماز پڑھ لیں۔"
(کتاب السیاسیات ، جلد 9، ص: 453 ، ط:دار الاشاعت )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100372
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن