
ایک مسجد ہے جس میں تراویح میں ختمِ قرآن ہو رہا ہے۔ اس مسجد میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے دس روزہ تراویح میں قرآن مکمل کیا ہے۔ اب یہ لوگ اسی مسجد میں مختصر تراویح کی جماعت کرتے ہیں۔ کیا اس طرح ایک ہی مسجد میں دو جماعتیں کرنا صحیح ہے؟
ایک مسجد کے میں بیک وقت ایک سے زیادہ جماعتیں قائم کرنا مکروہ ہے۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں جماعت کی اہمیت و عظمت کم ہو جائے گی، مقصدِ جماعت ضائع ہوتا ہے، اور اختلاف و انتشار کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے تمام نمازیوں کو ایک ہی امام کی اقتداء کرنی چاہیے۔
جنہوں نے دس روزہ تراویح میں قرآن مکمل کیا ہے اور مختصر تراویح کی جماعت کرنا چاہتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مسجد کی حدود سے باہر اپنے لیے اس کا انتظام کریں۔
البتہ اگر مسجد بڑی ہو، ائمہ کی آوازیں آپس میں نہ ٹکراتی ہوں، اور متعدد جماعتوں کے ذریعے متعدد مرتبہ قرآنِ کریم کی تکمیل مقصود ہو، تو ایسی صورت میں متعدد جماعتیں کرنا جائز ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"عن سالم بن عبد الله بن عمر رضي الله عنهم عن أبيه، قال: «غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد، فوازينا العدو، فصاففنا لهم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي لنا، فقامت طائفة معه، وأقبلت طائفة على العدو، وركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمن معه وسجد سجدتين، ثم انصرفوا مكان الطائفة التي لم تصل، فجاءوا، فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم ركعة، وسجد سجدتين، ثم سلم، فقام كل واحد منهم، فركع لنفسه ركعة، وسجد سجدتين.
(فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي) أي: بالجماعة إماما. (لنا) أي: لتحصيل ثوابنا على التسوية بيننا حيث لم يصل مع جماعة، وترك جماعة أخرى يصلون مع غيره، وفيه دلالة على كراهة تعدد الجماعة، لا سيما إذا كان القوم حاضرين."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الخوف، ج:3، ص:1051، ط:دار الفكر)
العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
"فكان الناس يصلونها فرادى إلى زمن عمر رضي الله عنه، فقال عمر: إني أرى أن أجمع الناس على إمام واحد، فجمعهم على أبي بن كعب فصلى بهم خمس ترويحات عشرين ركعة."
(کتاب الصلاۃ، باب النوافل، ج:1، ص:468، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى)
فقہ السنۃ میں مسئلۂ تکرارِ جماعت کے تحت حاشیہ میں ہے:
"وأما تعدد الجماعة في وقت واحد ومكان واحد فإنه من المجمع على حرمته لمنافاته لغرض الشارع من مشروعية الجماعة ولوقوعه على خلاف المشروع."
(صلاۃ الجماعة، ج:1، ص:233، ط:دار الکتاب العربي)
”احکامِ اسلام عقل کی نظر“ میں ہے:
”امامت نماز و جماعت کی حکمت :
جب کسی امر کا اظہار بزور منظور ہوتا ہے تو اس کو عملی صورت میں لا کر دکھاتے ہیں، چوں کہ خدا تعالیٰ کو اس عالم کی ہر چیز میں اعتدال منظور ہے اور اشیاء میں اعتدال جب ہی قائم رہتا ہے کہ ان میں اتحاد اور وحدت کا رابطہ قائم ہو۔ پس خدا نے وحدت و اتفاق کو عالم تشریعی کے اندر جماعت و امامت نماز کی صورت میں دکھایا، نظام شمسی کو دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے سارے اجرام صغیرہ پیدا کر کے ان سب کا امام اکبر واعظم آفتاب کو بنایا اور سارے خورد و بزرگ اجسام و اجرام کو اسکے ماتحت ٹھیرایا۔“
(ص:74، ط:مکتبہ عمر فاروق)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
"ایک مسجد میں متعد د تراویح کا حکم
"ســــوال (۴۰۴): قدیم ۴۶۹/۱- ایک جامع مسجد کہ جس کا طول ۲۸ گز اور عرض ۲۱ گز ہے اگر چاہیں کہ قرآن شریف دو جگہ مسجد مذکور میں دو حافظ بیچ تراویح کے پڑھیں اور درمیان میں کوئی آڑر روک ایسی کر دی جائے کہ ایک دوسرے کی آواز سے حرج واقع نہ ہو، آیا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب : ایک مسجد میں دو جگہ تراویح پڑھنا بشر طیکہ از راہ نفسانیت نہ ہو اور ایک کا دوسرے سے حرج نہ ہو جائز ہے مگر افضل یہی ہے کہ ایک ہی امام کے ساتھ سب پڑھیں۔
في البخاري عن عبد الرحمن ابن عبد القارى أنه قال: خرجت مع عمر بن الخطاب ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلى الرجل فيصلى بصلوته الرهط فقال : إني أرى لو جمعت هولاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب(الحديث) جلد أول ص ۲۶۹. اس روایت سے ثابت ہوا کہ حضرت عمر نے تراویح متفرق پڑھنے والوں پر تشفیع نہیں فرمائی۔ پس معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے اور ایک امام کے ساتھ پڑھنے کو افضل فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ افضل یہی ہے ۔ واللہ اعلم۔"
(کتاب الصلاۃ، باب التراویح، ج:2، ص:327،،ط:رشیدیہ جدید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"ایک مسجد میں تراویح کی دو جماعت ، یا دو اماموں کا ملکر تراویح پڑھانا
"سوال (۳۳۸۴] : ایک متوسط جامع مسجد جس میں دو حصے ہیں اوپر، نیچے، تو رمضان المبارک میں اوپر نیچے دونوں جگہ تراویح ہوسکتی ہے یعنی ہر حصہ کے علیحدہ امام ہیں دونوں ایک ہی مکتبہ فکر کے ہیں۔ تو ایسی صورت میں کیا اجازت ہے جب کہ نیچے بہت جگہ ہے اور دونوں حافظوں کا کوئی سامع نہیں ہے، تو یہ صورت مناسب ہے کہ ایک حافظ پڑھے اور دوسر ا سنے، یا یہ صورت بہتر ہے کہ اوپر نیچے تراویح علیحدہ علیحدہ ہو جائے؟
الجواب حامداومصلياً:
تراویح دو جگہ بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ آوازوں میں ٹکراؤ نہ ہو، مگر اچھا یہی ہے کہ امام کے پیچھے سب پڑھیں اور دوسرے حافظ سامع کی حیثیت سے پیچھے رہیں۔ تا کہ اگر لقمہ دینے کی ضرورت پیش آئے تو آسانی رہے۔ پھر چاہیں ایسا کریں کہ ایک شب ایک امام صاحب تراویح پڑھائیں اور دوسری شب دوسرے امام صاحب تراویح پڑھائیں، یا ۸ رکعت ایک امام صاحب پڑھائیں اور بارہ رکعت دوسرے امام صاحب پڑھائیں تا کہ دونوں کو سنانے کا موقع مل جائے اور جماعت بھی ایک ہی رہے ، حرم شریف میں ایسا ہی کرتے
ہیں کہ دو امام پڑھاتے ہیں :وفي الخلاصة: "إذا صلى التراويح الواحد إمامان كلُّ إمام ركعتين، اختلف المشايخ، والصحيح أنه لا يستحب، لكن كل ترويحة يؤديها إمام واحد“ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔"
(کتاب الصلاۃ، باب التراویح، ج:7، ص:273،،ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101549
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن