
زید نے خالد سے ایک موبائل اس طرح خریدا کہ مثلاً خالد کے موبائل کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے،تو خالد نے زید سے کہا کہ میرے موبائل کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے، اگر آپ ایک سال کے ادھار پر مانگ رہے ہو تو میں آپ کو یہ موبائل دو لاکھ میں بیچوں گا، زید نے ایک سال کے ادھار پر موبائل دو لاکھ روپے میں خالد سے خریدلیا، مقررہ وقت آنے پر زید نے خالد سے کہا کہ ابھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں، مجھے ایک سال مزید مہلت دو تو میں آپ کو دو لاکھ روپے کے بجائے تین لاکھ روپے دوں گا ،کیا شریعتِ مطہرہ کی رُو سے اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے؟
جس طرح نقد خرید و فروخت جائز ہے، اسی طرح ادھار سودا کرنا اور ادھار سودے میں باہمی رضامندی سے نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت طے کرنا بھی جائز ہے، کیوں کہ ادھار کی صورت میں رقم کی زیادتی صرف وقت کا عوض نہیں ہوتی بلکہ اس اثاثے کی قدر کے بڑھ جانے کی وجہ سے اس اثاثے ہی کا عوض ہوتی ہے، اس لیے ادھار کی صورت میں نقد رقم سے زائد رقم طے کرنا سود نہیں ہے، تاہم جواز کی شرط یہ ہے کہ سودا ادھار ہونے کی صورت میں ادھار کی مدت بھی طے کرلی جائے، اور قیمت فروخت جو بھی باہمی رضامندی سے طے پائے وہ متعین کرلی جائے، قیمت کی ادائیگی میں وقتِ مقررہ سے تاخیر پر کسی بھی عنوان سے اضافہ وصول نہ کیا جائے، اور وقتِ مقررہ سے پہلے ادائیگی کی صورت میں قیمت میں کمی نہ کی جائے۔اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہوئی (یعنی نہ پائی گئی) تو یہ بیع ناجائز اور سود کے حکم میں ہوگی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ابتداءً زید کا خالد سے ایک لاکھ روپے والا موبائل ادھار میں (یعنی دو سال میں قیمت کی ادائیگی کی شرط پر) دو لاکھ روپے کے عوض خریدنا تو جائز ہے، لیکن دو سال پورے ہونے کے بعد ادائیگی میں مزید ایک سال کی مہلت کے عوض اضافی ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کا معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے،کیوں کہ اس طرح پیسوں کی ادائیگی میں مہلت کی وجہ سے پیسے بڑھانا شرعا سود کے حکم میں ہے اور سود کا لین دین شرعا ناجائز اور حرام ہے اور لعنت کا مستحق ہونے کا سبب ہے، اس لیے اگر دو سال پورے ہونے کے بعد زید کے پاس واقعۃً خالد کو دینے کے لیے پیسے نہ ہوں تو خالد کو چاہیے کہ زید کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کے حصول کی خاطر مہلت دے دے، کیوں کہ قرض دار کو مہلت دینا باعثِ اجر و ثواب ہے، جب کہ اس کے برخلاف اگر زید مہلت دینے کے عوض خالد سے اضافی رقم (سود) لے گا تو یہ باعثِ لعنت و عذاب ہوگا۔
قرآن کریم میں ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ}[البقرة:278، 279]
ترجمہ:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو ، اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگر تم (اس پر عمل ) نہ کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔(از بیان القرآن)
قرآن کریم میں ہے:
{فَبِظُلۡمٖ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمۡنَا عَلَيۡهِمۡ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتۡ لَهُمۡ وَبِصَدِّهِمۡ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرٗا ١٦٠ وَأَخۡذِهِمُ ٱلرِّبَوٰاْ وَقَدۡ نُهُواْ عَنۡهُ وَأَكۡلِهِمۡ أَمۡوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلۡبَٰطِلِۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ مِنۡهُمۡ عَذَابًا أَلِيمٗا ١٦١}[النساء: 160-161]
ترجمہ:سو یہود کے ان ہی بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں جو ان کے لیے حلال تھیں ان پر حرام کردیں اور بسبب اس کے کہ وہ بہت سے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع بن جاتے تھے اور بسبب اس کے وہ سود لیا کرتے تھے حالاں کہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی اور بسبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاجاتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کے لیے جو ان میں کافر ہیں درد ناک سزا کا سامان کر رکھا ہے۔ (بیان القرآن)
حدیث مبارک میں ہے:
"عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء۔"
(الصحيح لمسلم، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ج: 3، ص: 1219، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود لینے والے اور دینے والے اور لکھنے والے اور گواہی دینے والے پر لعنت کی ہے اور فرمایا: یہ سب لوگ اس میں برابر ہیں، یعنی اصل گناہ میں سب برابر ہیں اگرچہ مقدار اور کام میں مختلف ہیں۔(از مظاہر حق)
سنن الترمذی میں ہے :
"وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما."
(أبواب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج : 3، ص : 525، ط : شركة مكتبة ومطبعة مصطفى)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعامله على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد."
(كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة،ج:13،ص:7، ط:دار المعرفة - بيروت)
شرح المجلة لرستم باز میں ہے:
"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح، يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط… لأن جهالته تفضي إلى النزاع فيفسد البيع به."
(الكتاب الأول في البيوع، الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالثمن، المادة: 246/245، ج:1، ص:100، ط: فاروقيه)
" تحفة الفقهاء للسمرقندي" میں ہے:
"باب الربا، الربا نوعان ربا الفضل وربا النساء فالأول هو فضل عين مال على المعيار الشرعي وهو الكيل والوزن عند اتحاد الجنس.
والثاني هو فضل الحلول على الأجل وفضل العين على الدين في المكيلين والموزونين عند اختلاف الجنس أو في غير المكيلين وغير الموزونين عند اتحاد الجنس."
(کتاب البيوع، باب الربا، 2/ 25، ط:دار الكتب العلمية بيروت)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.
(قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) تعليل لاشتراط كون الأجل معلوما؛ لأن علمه لا يفضي إلى النزاع، وأما مفهوم الشرط المذكور وهو أنه لا يصح إذا كان الأجل مجهولا فعلته كونه يفضي إلى النزاع فافهم. وسيذكر المصنف في البيع الفاسد بيان الأجل المفسد وغيره. مطلب في التأجيل إلى أجل مجهول ... ومنها اشتراط أن يعطيه الثمن على التفاريق أو كل أسبوع البعض فإن لم يشرط في البيع بل ذكر بعده لم يفسد، وكان له أخذ الكل جملة وتمامه في البحر."
(كتاب البيع، 4/ 531، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
" لأن الأجل في نفسه ليس بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا، فاعتبر مالا في المرابحة احترازا عن شبهة الخيانة، ولم يعتبر مالا في حق الرجوع عملا بالحقيقة بحر."
(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج: 5، ص:141،42، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
" لأن للأجل شبها بالمبيع. ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجله."
(کتاب البیوع، باب المرابحة، ج:5، ص:142، ط:سعید)
"الموسوعة الفقهية الكويتية"میں ہے:
"الأصل في الثمن الحلول، وهذا متفق عليه بين الفقهاء في الجملة، قال ابن عبد البر: الثمن أبدا حال، إلا أن يذكر المتبايعان له أجلا فيكون إلى أجله ونقل الأتاسي في شرح المجلة عن السراج في تعليل ذلك قوله: لأن الحلول مقتضى العقد وموجبه.....وقد تبين مما سبق أن الثمن إما أن يكون معجلا، وإما أن يكون مؤجلا. والثمن المؤجل إما أن يكون إلى موعد معين لجميع الثمن، وإما أن يكون منجما (مقسطا) على مواعيد معلومة ... ومن جهة أخرى: فإن الثمن إما عين معينة، وإما دين ملتزم في الذمة.
ففي الثمن: إذا كان دينا يختلف الحكم في أدائه بحسب كونه معجلا أو مؤجلا أو منجما، فإذا كان مؤجلا أو منجما يتعين أن يكون الأجل معلوما للمتعاقدين على تفصيل ينظر في بحث (أجل) ... هذا ما لم يكن هناك شرط على خلاف ذلك."
(البيع، الأثار المترتبة علی البیع، 9/ 37، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية کویت)
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحًا، أو أقرضه و شرط شرطًا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعًا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لايقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطةً في القرض."
(کتاب القرض،فصل فی شرائط رکن القرض،7 / 395،دارالکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100893
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن