بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کےتین طلاق کےمطالبہ پر شوہرکاایک ہی مجلس میں سوطلاق دینےسےتین طلاق واقع ہوجاتی ہیں


سوال

9ستمبر کو میری بیٹی اور اس کے شوہر کے درمیان معمولی جھگڑاہوا،جس پر بیٹی نے جھگڑے کے دوران طلاق کا مطالبہ کیا ،تو میرے داماد نے بیٹی کو کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "،پھرمیری بیٹی نے کہا کہ مجھے تین چاہیے ،تو میرے داماد نے غصہ میں کہا کہمیں نے تین سو طلاق دی،اس کے بعد لڑکے نے ایک فتوی لیا جوکہ منسلک ہے،وہ لے کر آیا ،اور کہا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ :

طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا  آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کے مطالبہ پر ایک مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"،تو آپ کی بیٹی پر ایک طلاق واقع ہوگئی تھی ،اور آپ کے داماد کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار رہ گیا تھا،پھر اسی وقت آپ کی بیٹی نے تین طلاق کا مطالبہ کیا توآپ کے داماد نے کہا کہ"میں نے تین سو طلاق دی "،تو آپ کی بیٹی پر دواور طلاقیں واقع ہوگئیں اور مجموعی اعتبار سے آپ کی بیٹی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اورنکاح ختم ہوچکاہے، اب رجوع کی گنجائش نہیں رہی، کیونکہ بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،اب رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی گنجائش نہیں،مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہیں ہے، اگرحمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔

نیز الگ الگ  وقت میں طلاق دینے یا بیک وقت تین طلا ق دینے سے طلاق کے وقوع میں کوئی  فرق نہیں پڑتا،اگرچہ ایک مجلس میں تین طلاق  دینا  شرعاًبہت مذموم ہے ،اس سے اجتناب ضروری ہے ،لیکن اگر اس طرح کوئی طلاق دے گا تو تب بھی   قرآن وحدیث مبارکہ ،اقوالِ صحابہ کرام  اور چاروں ائمہ کرام  کے نزدیک تین طلاق واقع ہوجائیں گی،اکٹھی  دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق  قرار دینا گمراہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰن ۔۔۔۔۔۔ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ [البقرة: 229-230]   

ترجمہ:”وہ طلاق دو مرتبہ (کی ) ہے پھر خواہ رکھ لینا قاعدہ کے موافق خواہ چھوڑ دینا خوش عنوانی کے ساتھ ۔۔۔۔۔پھر اگر کوئی ( تیسری ) طلاق دے دے عورت کو تو پھر وہ اس کے لئے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ ( عدت کے بعد ) نکاح کرلے۔“

صحيح البخاری میں ہے:

"عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول)."

( كتاب الطلاق،  باب: من أجاز طلاق الثلاث، ج:5، ص:2014، ط:دار ابن كثير)

ترجمہ:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں،پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کیا، اور اس دوسرے شوہر نے بھی اسے طلاق دے دی،(تو لوگوں نے) نبی کریم ﷺ سے پوچھا،کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو گئی؟آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں، یہاں تک کہ وہ (دوسرا شوہر) اس کے شہد کا مزہ چکھے جیسے پہلے (شوہر) نے چکھا تھا۔“

موطأ امام مالک میں ہے:

"حدثنا مالك؛ أنه بلغه، أن رجلا قال لابن عباس: إني طلقت امرأتي مائة ، فماذا ترى؟ قال ابن عباس: ‌طلقت ‌ثلاثا، ‌وسبع ‌وتسعون ‌اتخذت ‌بها ‌آيات ‌الله ‌لعبا ‌هزوا."

(كتاب الطلاق، باب ما جاء في البتة، ج:1، ص:605، ط:مؤسسة الرسالة بيروت)

ترجمہ:”مالک نے بیان کیا کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے ابن عباسؓ سے کہا: میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، تو آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ ابن عباسؓ نے فرمایا: تمہاری تین طلاق واقع ہوگئیں، اور باقی ستانوے کے ذریعے تم نے اللہ کی آیات کو کھیل اور مذاق بنایا ہے۔“

المحيط البرہانی میں ہے:

"امرأة قالت لزوجها: ‌طلقني ثلاثاً فقال الزوج أنت طالق أو قال: فأنت طالق تقع واحدة هكذا رواه ابن سماعة، وهشام عن محمد رحمه الله علل محمد في رواية هشام رحمه الله فقال: لأن هذا ليس بجواب قال في رواية هشام: وإن عنى الجواب في قوله أنت طالق استحسن أن جعلها ثلاثاً، ولو كان قال: قد طلقتك تقع الثلاث فكذا لو قال: فعلت."

(كتاب الطلاق،الفصل الرابع فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ج:3، ص:216، ط:دار الكتب العلمية)

أحكام القرآن للجصاص  میں ہے:

"فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا وإن كانت معصية."

(من سورة البقرة، باب ذكر الاختلاف في الطلاق بالرجال، ج:1، ص:469، ط:دار الكتب العلمية)

 بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 187 ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامة، لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا، ویدخل بها، ثم یطلقها او یموت عنها."

(کتاب الطلاق،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:473، ط:دار الفكر بيروت )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں