
سات رمضان المبارک کو میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا ،اور میں نے سخت غصہ میں" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " تین مرتبہ کہا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ،ہم نے بعض علماء سے سناہے کہ ایک دفعہ میں تین طلاق دینے سے تین طلاقیں واقع نہیں ہوتی؟
یہ سوال بھی ہےکہ ہم بچوں کی خاطر ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،اہلیہ میرے گھر میں ہے اور اس کے گھر والے اس کو قبول نہیں کرتے تو ترتیب بنا کر دوسری جگہ نکاح کرنا کیسا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب ایک ہی وقت میں تین مرتبہ اپنی بیوی کو طلاق دی، تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں ہی واقع ہوگئی ہیں ،اورنکاح ختم ہوچکاہے، اب رجوع کی گنجائش نہیں رہی، کیونکہ بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،نیز فی الحال دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہیں ہے، اگرحمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور پھر اس سے دوبارہ نکاح کرنے کے لیے اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے اس شرط پر کرائے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے گا، ایسا کرنا مکروہ تحریمی (ناجائز) ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کرنے والے اور جو شخص ایسا کروا رہا ہے دونوں پر لعنت فرمائی ہے،البتہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے اور وہ کسی دوسری جگہ طلاق دینے کی شرط کے بغیر نکاح کرے ، نکاح کے بعد دوسرا شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرے اور اس کے بعد اس کے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اسے اتفاقی طور پر طلاق دےدے تو وہ بیوی عدت گزار کر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرسکے گی۔
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عبد الله بن مسعود قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له."
(أبواب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ،باب ما جاء في المحل والمحلل له،ج:2، ص:414، ط:دار الغرب الإسلامي)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(كتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3، ص:187، ط: دار الكتب العلمية)
المحیط البرھانی میں ہے:
"إذا زوجت المطلقة ثلاثاً بزوج،فكان من قصدهما التحليل إلا أنهما لم يشترطا ذلك يقول: حلّت للزوج الأول، ولو شرطا الإحلال بالقول فإن تزوجها لذلك، فالنكاح صحيح في قول أبي حنيفة وزفر رحمهما الله، وتحل للأول ولكن يكره ذلك للأول والثاني."
(كتاب النكاح ، الفصل الخامس والعشرون: في المسائل المتعلقة بنكاح المحلل وما يتصل به ،ج:3، ص:181، ط:دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611101725
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن