
میں دو سال پہلے کراچی گیا تھا، وہاں میرے بڑے بھائی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں ، میں نے وہاں دو مہینےگزارے، اور وہاں پوری نماز پڑھی، اب میرا وہاں آنا جانا رہتا ہے ، کبھی ایک ہفتہ کے لیے کبھی دس دن کے لیے، تو کیا میں اب کراچی میں نماز سفرانہ(قصر) پڑھ سکتا ہوں ؟اگر چہ میں نے پہلے دو مہینے گزارے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کا گھر اور مستقل رہائش کراچی میں نہیں ہے، اور آپ کا ارادہ پندرہ دن سے کم رہنے کا ہو تو آپ نماز میں قصر یعنی سفرانہ نماز ادا کریں گے، اور اگر پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنےکا ارادہ ہو تو مکمل نماز پڑھنی ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي ...حتى يدخل مصره أو ينوي الإقامة نصف شهر في بلد أو قرية)"
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:138-141، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوباً لقول ابن عباس: «إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعاً والمسافر ركعتين»، ولذا عدل المصنف عن قولهم: قصر؛ لأن الركعتين ليستا قصراً حقيقةً عندنا بل هما تمام فرضه والإكمال ليس رخصةً في حقه بل إساءة. قلت: وفي شروح البخاري: أن الصلوات فرضت ليلة الإسراء ركعتين سفراً وحضراً إلا المغرب فلما هاجر عليه الصلاة والسلام واطمأن بالمدينة زيدت إلا الفجر لطول القراءة فيها والمغرب لأنها وتر النهار فلما استقر فرض الرباعية خفف فيها في السفر عند نزول قوله تعالى:{فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة} [النساء: 101] وكان قصرها في السنة الرابعة من الهجرة وبهذا تجتمع الأدلة اهـ كلامهم فليحفظ".
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:121-123، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102094
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن