بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک گائے کی قربانی چار آدمی مشترک ہوکر کرسکتے ہیں


سوال

ہم چار بھائی ہیں ، اور چاروں یہ چاہتے ہیں کہ ایک گائے  لاکر  چار حصے کرکے  مشترک قربانی کر لیں  تو  کیا  یہ شرعا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے چھوٹے جانور (مثلاً بکرا، بکری اور دنبہ) میں ایک ہی حصہ ہوتا ہے، جب کہ قربانی کے بڑے جانور (مثلاً گائے، بیل، بھینس اور اونٹ وغیرہ) میں زیادہ سے زیادہ سات حصے ہوتے ہیں، یعنی سات سے کم حصے تو رکھے جاسکتے ہیں، لیکن سات سے زیادہ حصے نہیں رکھے جاسکتے ہیں، لہٰذا اگر قربانی کے بڑے جانور میں چار افراد شریک ہوجائیں اور جانور کے کل چار حصے کرلیں اس طرح کہ ہر ایک کا ایک ایک حصہ ہو  (اور کسی کی شامل کردہ رقم جانور کی مجموعی قیمت کے ساتویں حصے سے کم نہ ہو) تو   اس طرح قربانی کرنا جائز ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں ایک گائے میں  چار بھائیوں  کامشترک ہوکر قربانی کرنا شرعاجائز اور درست ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"و لايجوز بعير واحد و لا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولا يجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة». وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة من غير فصل بين أهل بيت وبيتين»؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح وأنه فعل واحد لا يتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي للجواز عن سبعة مطلقاً، فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو بيتين فكذا البقرة ... ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى، وسواء اتفقت الأنصباء في القدر أو اختلفت؛ بأن يكون لأحدهم النصف وللآخر الثلث ولآخر السدس بعد أن لا ينقص عن السبع، ولو اشترك سبعة في خمس بقرات أو في أكثر فذبحوها أجزأهم؛ لأن لكل واحد منهم في كل بقرة سبعها، ولو ضحوا بقرةً واحدةً أجزأهم، فالأكثر أولى، ولو اشترك ثمانية في سبع بقرات لم يجزهم؛ لأن كل بقرة بينهم على ثمانية أسهم، فيكون لكل واحد منهم أنقص من السبع، وكذلك إذا كانوا عشرةً أو أكثر فهو على هذا".

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 71)ط:دارالکتب العلمیۃ )

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"والبقر والبعير يجزي عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى، ‌والتقدير ‌بالسبع يمنع الزيادة، ولا يمنع النقصان، كذا في الخلاصة."

(الفتاوى العالمكيرية، كتاب الأضحية، الباب الثامن فيما يتعلق بالشركة في الضحايا، 5/ 304، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511100320

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں