
گاؤں میں ایک جامع مسجد تھی، جہاں پہلے سے جمعہ چلتا آ رہا ہے، پھر لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی اور مسجد نمازیوں کے لیے کم پڑ گئی، نمازیوں نے مسجد کے چھوٹے ہونے اور جگہ کم پڑنے کی شکایت کی، اسی دوران دوسری جگہ بڑی مسجد کی بنیاد رکھی گئی، مگر پہلی مسجد کے مقتدیوں نے بھی مسجد کی توسیع شروع کردی، اب اس قدیم مسجد کی توسیع مکمل کر کے اسے بڑی مسجد بڑی بنا دیا گیا ہے، جب کہ نئی مسجد کی تعمیر ابھی ابتدا ہی میں ہے، اب جب کہ قدیم مسجد کے نمازیوں کی جو شکایت تھی وہ ختم ہو گئی ہے تو سوال یہ ہے کہ ان دو مسجدوں میں کس مسجد میں جمعہ پڑھنا چاہیے؟ پہلی والی مسجد میں جو بہت قدیم ہے یا دوسری مسجد میں؟ جب کہ دونوں مساجد ایک ہی گاؤں میں ہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ گاؤں میں جمعہ کی شرائط موجود ہیں تو مذکورہ دونوں مساجد میں جمعہ قائم کرنے سے نماز درست ہوجائے گی، البتہ بلا ضرورت کئی جگہ جمعہ قائم کرنا جماعت کی کمی کا باعث بننے کی بنا پر خلافِ اولیٰ ہے؛ کیوں کہ جمعہ میں کثرتِ جماعت شرعاً مطلوب ہے، اس لیے افضل یہی ہے کہ جمعہ کے دن گاؤں کے تمام لوگ قدیم مسجد (جہاں پہلے سے جمعہ کی نماز ہورہی ہے) میں جمع ہوکر جمعہ کی نماز بڑی جماعت کے ساتھ پڑھیں، کیوں کہ نئی مسجد میں جمعہ کی نماز قائم کرنے سے دونوں مسجدوں میں دو چھوٹی جماعتیں قائم ہوجائیں گی ،جس کی وجہ سے افضلیت کا ترک کرنا لازم آئے گا ، تاہم اگر محلہ کی قدیم مسجد میں تنگی کے باعث جگہ کم پڑتی ہو یا دوری کی بنا پر لوگوں کے لیے آنے میں مشقت ہو تو دونوں جگہ جمعہ قائم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، نیز اگر قدیم مسجد میں گنجائش ہونے کے باوجود نئی مسجد میں بھی جمعہ کی نماز پڑھی جائے تو اس کی وجہ سے آپس میں اختلافات اور انتشار پیدا نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ بلا ضرورت دو مساجد میں جمعہ کی نماز قائم کرنا ناجائز نہیں ہے، بلکہ صرف غیر افضل اور خلافِ اولیٰ ہے اور ایک افضل کام کو ترک کرنے کی وجہ سے آپس میں اختلافات اور انتشار پیدا کرنا جائز نہیں ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:137، ط:سعيد)
فیہ ایضاً:
"(وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا على المذهب وعليه الفتوى شرح المجمع للعيني وإمامة فتح القدير دفعا للحرج.
(قوله مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا وسواء فصل بين جانبيه نهر كبير كبغداد أو لا وسواء قطع الجسر أو بقي متصلا وسواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر هكذا يفاد من الفتح، ومقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي.
(قوله: على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط، وبما ذكرنا اندفع ما في البدائع من أن ظاهر الرواية جوازها في موضعين لا في أكثر وعليه الاعتماد اهـ فإن المذهب الجواز مطلقا بحر.
(قوله: دفعا للحرج) لأن في إلزام اتحاد الموضع حرجا بينا لاستدعائه تطويل المسافة على أكثر الحاضرين ولم يوجد دليل عدم جواز التعدد بل قضية الضرورة عدم اشتراطه لا سيما إذا كان مصرا كبيرا كمصرنا كما قاله الكمال ط."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:145، ط:سعيد)
کفایت المفتی میں ہے:
"ایک بستی میں ایک جگہ جمعہ پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر بستی بڑی ہو اور ایک جگہ لوگوں کا جمعہ ہونا دشوار ہو تو دو جگہ حسبِ ضرورت جمعہ پڑھنا جائز ہے، اور بلا ضرورت بھی کئی جگہ جمعہ پڑھا جائے تو نماز ہوجاتی ہے، البتہ خلافِ افضل اور خلافِ اولیٰ ہوتی ہے۔"
(کتاب الصلاہ، باب الجمعہ، متعدد جگہ جمعہ، ج:3، ص:288، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100894
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن