
میں اپنے کزن کے ساتھ جاب ( it کا بزنس)کرتا ہوں،اور میری تنخواہ بھی مقررہےاور اس کام کی ٹائمنگ بھی علیحدہ ہے ، شام تقریباً 6 سے رات 11تک۔ اور ساتھ صبح کے اوقات اپنا پراپرٹی اسٹیٹ (جائیداد کی خرید و فروخت) کا کام بھی کر تاہوں ۔
کزن سے میری یہ بات ہوئی کہ انویسٹمنٹ (سرمایہ کاری) آپ کی طرف سے ہوگی اور کنسٹرکشن (تعمیرات) میری طرف سے، اور پرافٹ شیئر (منافع میں شراکت) ہوگا۔ اُنہوں نے اس وقت منع کیا پھر ایک ہفتہ بعد راضی ہوگیا اور کہا ٹھیک ہے۔
اس معاہدے کے بعدپھر ایک جگہ کنسٹرکشن کرنی تھی وہاں ڈیل (سودا) نہیں ہوئی، نہ کزن نے پیسے لگائے اور نہ میں نے کام کیا۔
پھر اس کے بعد اُنہوں نے ایک جگہ میری اسٹیٹ کے ذریعہ خریدی اور میں نے اپنا کمیشن بھی لیا، پھر مجھے کہا کہ کنسٹرکشن آپ نے کرنی ہے، میں نےاپنے کام کے بندوں سے ان کی ملاقات کرائی کہ یہ لوگ کام کریں گے۔ تعمیرات کا خرچہ کزن کی طرف سے تھا صرف کام میری طرف سے تھا ،میں نے کنسٹرکشن کرنے کے بعد کمیشن (معاوضہ) کی بات کی، تو اُنہوں نے کہا: میں نے اس پروجیکٹ (منصوبے) میں آپ سے کمیشن کی بات نہیں کی ہے، اور یہ کہ پرافٹ شیئر کی بات تو پہلے پروجیکٹ میں ہوئی تھی، اس پروجیکٹ میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی ہے۔میں نے اُن کو سمجھایا کہ کام نیچر وائز (نوعیت کے اعتبار سے) ایک ہی ہے، اس میں انویسٹمنٹ آپ کی طرف سے ہے، اور کام میں کر رہا ہوں، تو میرا کمیشن بنتا ہے۔
اب میں نے اس کام کے لیے اپنا اسٹیٹ بند کر دیا، اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں؟ کیا اس معاملے میں میرا حق بنتا ہے تاکہ میں اس سے کمیشن کا مطالبہ کروں، یا اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دوں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنے کزن کےساتھ کنسٹرکشن یعنی تعمیرات کے کام میں شراکت کرنا اس طور پر کہ سرمایہ کزن کی طرف سے ہو اور کنسٹرکشن کا کام سائل کرے اور نفع برابر تقسیم ہو، یہ صورت شرعاً جائز نہیں ، مذکورہ شرکت ،شرعاً شرکت کی کسی قسم کے تحت داخل نہیں ۔
البتہ اگر سائل کے کزن نے کنسٹرکشن کے کام میں سرمایہ کاری کی ہو اور سائل نے محنت کی ہو، تو اس صورت میں سائل اپنی متعین اجرت یعنی تنخواہ لینے کا حق دار ہوگا، لیکن تنخواہ کا پہلے سے متعین کرنا ضروری ہوگا۔
لہٰذا وہ زمین جو سائل کے کزن نے سائل کے ذریعہ خریدی اور سائل نے اپنا کمیشن بھی وصول کرلیایہ معاملہ جائز تھا، تاہم کنسٹرکشن کےلیے افراد مہیا کرنے، محنت کرنے اور وقت دینے کی وجہ سے سائل منافع میں شریک نہیں ہوگا، بلکہ اس کام کی جو اجرت عرف میں رائج ہو وہ اجرت اپنے کزن سے وصول کرسکتاہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
" ( الفاسد ) من العقود ( ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا ) لا بأصله ولا بوصفه ( وحكم الأول ) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل)...( قوله وجوب أجر المثل ) أي أجر شخص مماثل له في ذلك العمل، والاعتبار فيه لزمان الاستئجار ومكانه من جنس الدراهم والدنانير لا من جنس المسمى لو كان غيرهما، ولو اختلف أجر المثل بين الناس فالوسط والأجر يطيب وإن كان السبب حراما كما في المنية قهستاني، ونقل في المنح أن شمس الأئمة الحلواني قال تطيب الأجرة في الأجرة الفاسدة إذا كان أجر المثل، وذكر في المسألة قولين وأحدهما أصح فراجع نسخة صحيحة. ( قوله لو المسمى معلوما ) هذا إنما يصح لو زاد المصنف لا يتجاوز به المسمى كما فعل ابن الكمال تبعا للهداية والكنز، فكان على الشارح أن يقول إذا لم يكن مسمى أو لم يكن معلوما؛ لأن وجوب أجر المثل بالغا ما بلغ على ما أطلقه المصنف إنما يجب في هذين الصورتين أما لو علمت التسمية فلا يزاد على المسمى كما يأتي."
وفیہ ایضاً:
( تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع ) مما مر ( يفسدها ) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل ...
( قوله أو مدة ) إلا فيما استثنى: قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي. "
( كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج: 6، ص: 46، ط: سعید )
المبسوط للسرخسي میں ہے:
" وإذا دفع إلى رجل أرضا بيضاء على أن يبني فيها كذا كذا بيتا وسمى طولها وعرضها وكذا كذا حجرة على أن ما بني من ذلك فهو بينهما نصفان وعلى أن أصل الدار بينهما نصفان فبنى فيها كما شرط فهو فاسد؛ لأنه أمر بأن يجعل أرضه مساكن بآلات نفسه فيكون مشتريا بالآلات وهي مجهولة وقد جعل العوض نصف ما يعمل لنفسه من المساكن وذلك فاسد وقد قررنا في الإجارات أن هذا المعنى في الأرض يدفعها إليه ليغرسها أشجارا على أن تكون الأرض والشجر بينهما نصفين فهو في البناء كذلك ثم جميع ذلك لرب الأرض وعليه للثاني قيمة ما بنى؛ لأنه يصير قابضا له بحكم العقد الفاسد فإن بناء الغير بأمره كبنائه بنفسه فعليه ضمان القيمة لما تعذر رد العين باعتبار أنه صار وصفا من أوصاف ملكه وللعامل أجر مثله فيما عمل؛ لأنه أقام العمل له وقد ابتغى من عمله عوضا فإذا لم ينل ذلك استوجب أجر المثل. "
( كتاب المضاربة، باب اشتراط بعض الربح لغيرهما، ج: 22، ص: 35، ط: دارالمعرفة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801101035
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن