
میں نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک شخص کے بیٹے کے لیے دیا ، اور پھر اسی شخص کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے کے لیا ہے، اور یہ بات طے شدہ ہے کہ نکاح کے وقت دونوں بچیوں کا مہر الگ الگ ہوگا ،کیا اس طرح رشتہ کرنا شرعاً درست ہے ؟اور کیا یہ وٹے سٹے(نکاح شغار) کا رشتہ تو نہیں بنے گا ؟جس کی حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ اگر یہ رشتہ شرعاً جائز ہے تو حدیث میں نکاح شغار کی ممانعت کا کیا مطلب ہے ؟
صورتِ مسئولہ آپ نے جب اپنی بیٹی کا رشتہ ایک شخص کے بیٹے کے لیے دیا، اور اسی شخص کی بیٹی کا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے لیا ہے،اور ہر ایک لڑکی کا الگ الگ مستقل مہر ہوگا تو اس طرح رشتہ کرنادرست ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، اس کو نکاح شغار نہیں کہا جائے گا۔
کیوں کہ نکاح شغاراس کو کہتے ہیں کہ دو افراد میں سے ہر ایک اپنی بیٹی یا کسی محرم عورت کی شادی دوسرے فرد یا اس کے بیٹے وغیرہ سے اس شرط پر کرے کہ وہ دوسرا فرد بھی اپنی بیٹی یا کسی محرم خاتون کو پہلے فرد یا اس کے بیٹے وغیرہ کے نکاح میں دے گا اور دونوں خواتین کا اس کے ادل بدل کے علاوہ کوئی اور حق مہر نہیں ہوگا، اسی صورت سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے، جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
"حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "نکاحِ شغار" سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسے کرکے دےگا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ کیا جائے (یعنی دونوں عورتوں کو ایک دوسری کا مہر تصورکیا جائے)۔"
(صحیح مسلم، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانه، ج:2، ص:1034، ط:داراحیاء التراث العربی)،
فتاوی شامی میں ہے:
"(و وجب مهر المثل في الشغار) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارًا.
"(قوله: في الشغار) بكسر الشين مصدر شاغر اهـ ح (قوله: هو أن يزوجه إلخ) قال في النهر: وهو أن يشاغر الرجل: أي يزوجه حريمته على أن يزوجه الآخر حريمته ولا مهر إلا هذا، كذا في المغرب: أي على أن يكون بضع كل صداقًا عن الآخر، وهذا المقيد لا بد منه في مسمى الشغار، حتى لو لم يقل ذلك ولا معناه بل قال: زوجتك بنتي على أن تزوجني بنتك، فقبل أو على أن يكون بضع بنتي صداقًا لبنتك فلم يقبل الآخر بل زوجه بنته ولم يجعلها صداقًا لم يكن شغارًا بل نكاحًا صحيحًا اتفاقًا، وإن وجب مهر المثل في الكل."
(كتاب النكاح، مطلب نكاح الشغار، ج:3، ص:105، ط:ايج ايم سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100408
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن