
1۔ ایک شخص نے بیوی سے کہا : "ایک دو تین گھر چلی جا"،شوہر کی ان الفاظ سے نیت طلاق کی تھی ،مذکورہ الفاظ سے کتنی اور کون سی طلاق واقع ہوتی ہے ؟
2۔ ہمارے ہاں عموماً تین پتھروں یعنی کنکریوں سے طلاق دیتے ہیں، ان پتھروں کے دیتے وقت الفاظ کچھ نہیں کہے جاتے،اور یہ پتھروں (کنکریوں) کا عرف صدیوں سے ہے،اور ہمارے لوگ ان کو طلاق ہی شمار کرتے ہیں،لیکن اب بعض علماء کہتے ہیں کہ صرف کنکریوں سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،اگر طلاق واقع نہیں ہوتی تو جن لوگوں نے کئی زمانہ سے اب تک کنکریاں پھینک کر طلاق دی ہے ان کی طلاق کا کیا ہوگا ؟ آیا کنکریوں کے پھینکنے یا دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟اور اگر واقع ہوتی ہے تو کون سی اور کتنی طلاقیں واقع ہوتی ہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں!
1۔واضح رہے کہ "ایک دو تین" الفاظ ِ طلاق میں سے نہیں ہے نہ صریح نہ کنایہ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اپنی بیوی سےجو یہ کہا کہ : "ایک دو تین گھر چلی جا" اس جملہ میں " ایک دو تین " تو لغو ہے، باقی "گھر چلی جا " سے چونکہ طلاق کی نیت تھی ، لہذا اس جملے سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی، اور نکاح ختم ہو جائے گا، دوبارہ نباہ کے لئے از سر ِ نو نکاح کرنا ضروری ہوگا، اور آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق ہوگا۔
2۔ طلاق کے وقوع کے لئےطلاق کےصراحتاً یا کنایتاًالفاظ کا تلفظ ہونا ضروری ہے،محض پتھر پھینکنے یا بیوی کے ہاتھ میں کنکریاں دینے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا پتھر پھینک کر طلاق دینے کا عرف شرعاً درست نہیں ہے،اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا اب تک جن لوگوں نے پتھر پھینک کر، یا دےکر طلاقیں دی ہیں ان کی طلاقیں بدوں الفاظ واقع نہیں ہوئیں۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے :
"وإذا قال لامرأته : تويكى، توسه ! أو قال : ترايكي، تراسه ! قال الشيخ الإمام أبو القاسم الصغار البلخي رحمه الله تعالى : لا يقع، قال الصدر الشهيد : المختار عندى أنه إذا نوى يقع الطلاق، وفى الححة : " تراسه " المختار أن تقع الثلاث إذا نوى، وفى الظهيرية : وقال غير أبي القاسم : ينبغي أن يكون الجواب على التفصيل : إن كان في حال مذاكرة الطلاق أو في حال الغضب يقع، وإلا فلا يقع إلا بالنية."
(کتاب الطلاق، الفصل الرابع فیما یرجع الی صریح الطلاق، نوع آخر فی الایقاع الطلاق بطریق الاضمار وترک الاضافة، ج : 4، ص : 418، ط : مکتبه زکریا دیوبند)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
" لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام.........(وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري."
(کتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق ،الفصل الخامس في الكنايات، ج : 1، ص : 374، ط : رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے :
"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي).
(قوله فنحو اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا رحمتي."
(کتاب الطلاق،باب الكنايات، ج : 3، ص : 298/296، ط : سعید)
وفیہ ایضاً :
"وركنه لفظ مخصوص."
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر.........،وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه."
(کتاب الطلاق، رکن الطلاق، ج : 3، ص : 231،230، ط : سعید)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ."
(کتاب الطلاق، فصل في بيان ركن الطلاق، ج : 3، ص : 98، ط : دار الکتب العلمیة)
فتاوی فریدیہ میں ہے :
"سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی منگنی ہو گئی ، نکاح بھی ہوا، رخصتی سے قبل نا چاقی کی وجہ سے اس شخص نے صرف ایک دو تین کہا ہے، طلاق کا کیا حکم ہے؟
الجواب: یہ الفاظ عددطلاق کےلئے موضوع ہیں نہ کہ انشاء طلاق کےلئے، نیز اس میں کسی قسم کی اضافت اور حکم بھی نہیں ہے ، پس ان الفاظ کے کہنے سے طلاق واقع ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ "
(کتاب الطلاق،فصل فی عدد الطلاق والقاء الحجر وغیرھما، ج : 5، ص : 433، ط :دار العلوم صدیقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611102063
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن