
ایک شخص کی دو بیویاں ہیں، اور وہ دونوں کے مابین قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق عدل کرنا چاہتا ہے،بیویوں کے درمیان عدل کی کیا صورت ہوگی اور عدل کن کن چیزوں میں ضروری ہے ؟
معاملہ کچھ اس طرح ہے کہ اس شخص کی ایک اہلیہ مستقل اس کے ساتھ اسی کے شہر میں رہائش پذیر ہے، اور سفری ضرورت کے علاوہ وہ اس اہلیہ کے ساتھ ہی رہتا ہے، جب کہ دوسری اہلیہ دوسرے ملک میں اپنے بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہےاور فی الحال بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کی وجہ سے مستقل اپنے شوہر کے ساتھ رہائش اختیار نہیں کرسکتی ہے، لہذا وقتا فوقتا وہ کچھ عرصے کے بعد شوہر کے پاس آجاتی ہےاور کچھ وقت گزار کر دوبارہ اپنے بچوں کے پاس چلی جاتی ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ شرعا دونوں بیویوں کے درمیان وقت اور دنوں کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟
کیا یہ صورت شرعا جائز ہے، اور اس میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں کہ شوہر جتنا عرصہ دوسری اہلیہ کی غیر موجودگی میں پہلی اہلیہ کے ساتھ رہے مثلا دو ماہ، تو دوسری اہلیہ کے آنے کے بعد اتنا ہی عرصہ دوسری اہلیہ کے ساتھ رہے ، اور پہلی اہلیہ اور بچوں کی جملہ ضروریات کا خیا ل بھی رکھے اور خبر گیری اور ملاقات بھی کرتا رہےلیکن راتیں دوسری اہلیہ کے ساتھ گزارے اور جب دوسری اہلیہ مثلا دو ماہ بعدبیرون ملک چلی جائے تو پھر اتنا ہی عرصہ یا اس سے کچھ زائد عرصہ پہلی اہلیہ کے ساتھ گزارے، شرعا اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کچھ عرصہ کے بعد دوسری اہلیہ مستقل شوہر کے شہر میں رہائش پذیر ہوجائے یا سال کا بیشتر حصہ شوہر کے شہر میں گزارے تو اس وقت دونوں بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا شرعی طریقہ کیا ہوگا ؟جس پر عمل پیرا ہو ا جائے تاکہ اللہ تعالی ناراض نہ ہو، اور شوہر برابری نہ کرنے کی وجہ سے آخرت کی رسوائی سے بھی دو چار نہ ہو،آیا یہ جائز ہے کہ دنوں کے بجائے مہینو ں کے اعتبار سے تقسیم ہو، مثلا ایک ماہ یا کم و بیش ایک اہلیہ کے ساتھ گزارے پھر اتنا ہی وقت دوسری کے ساتھ گزارے اور اس دوران دونوں کی جملہ ضروریات کا خیال بھی رکھے؟
جس شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں، اس پر تمام بیویوں کے درمیان خرچہ ، نان نفقہ، شب باشی، تحفہ تحائف، لباس پوشاک، اور رہائش غرض تمام امور میں برابری کرنا از روئے شرع لازم ہے۔ بیویوں کے درمیان برابری سے کام نہ لینا از روئے قرآن کریم اور احادیث طیبہ، گناہ کبیرہ ہے، اور ایسا مرد آخرت میں مفلوج بنا کر لایاجائے گا۔
شب باشی میں برابری کی کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے، یعنی چاہے ایک رات ایک کے ساتھ اوردوسری رات دوسری کے ساتھ گزارے، یا دوسری بیوی کی غیر موجودگی میں جتنی راتیں پہلی بیوی کے ساتھ گزارنے کا موقع ملے، دوسری بیوی کے آنے کے بعد اتنی ہی راتیں اس کے ساتھ گزارے، اس صورت میں شوہر عند اللہ گناہ گار نہیں ہوگا۔
نیز دوسری اہلیہ کا بیرون ملک رہائش اختیار کرنا اگر کسی اشد ضرورت کی بنا پر نہ ہو تو بیوی کا اتنے ماہ شوہر سے دور رہنا مناسب نہیں ہے، ازدواجی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ اس میں دیگر مفاسد پائے جانے کا بھی اندیشہ ہے، لہذا دوسری بیوی کو شوہر کے ساتھ رہائش اختیار کرنی چاہییے۔
دوسری اہلیہ کے شوہر کے شہر میں منتقل ہوجانے کے بعد بھی مذکورہ بالا کوئی بھی صورت اختیار کرنے کی اجازت ہوگی۔شوہر حسب سہولت اس میں دنوں یا ہفتہ واری یا ماہانہ ترتیب کے اعتبار سے اپنی دونوں بیویوں کے مابین باریاں مقرر کرسکتا ہے۔
قرآن کریم میں ہے :
"وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُواْ فِي الْيَتٰمىٰ فَانْكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنىٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُواْ فَوٰحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمٰنُكُمْ ذلِكَ أَدْنَىٰٓ أَلَّاْ تَعُوْلُواْ "(النساء : 3)
ترجمہ: اور اگر تم کو اس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم (لڑکیوں) کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دو (عورتوں سے) اور (تین تین عورتوں سے) اور چار چار (عورتوں سے) پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھو گے تو پھر ایک ہی (بی بی پر بس کرو) یا جو لونڈی تمھاری ملک میں ہو (وہی سہی) اس (امرِمذکور) میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے ۔(بیان القرآن)
سنن أبي داود میں ہے:
"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل."
(کتاب النکاح، باب في القسم بين النساء، ج: 3، ص: 469، ط: دار الرسالة العالمیة)
ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کے نکاح میں (ایک سے زائد مثلاً) دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرے تو قیامت کے دن (میدانِ محشر میں) اس طرح سے آئے گا کہ اس کا آدھادھڑ ساقط ہوگا۔"
رد المحتار میں ہے:
"(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب."
"(قوله والصحبة) كان المناسب ذكره عقب قوله في البيتوتة لأن الصحبة أي المعاشرة والمؤانسة ثمرة البيتوتة. ففي الخانية: ومما يجب على الأزواج للنساء: العدل والتسوية بينهن فيما يملكه، والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة، لا فيما لا يملكه وهو الحب والجماع."
(کتاب النکاح، باب القسم بین الزوجات، ج: 3، ص: 202، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ولو وهبت إحدى المرأتين القسم لصاحبتها جاز ولها أن ترجع متى شاءت كذا في السراج الوهاج"
(کتاب النکاح، مسائل في القسم بين الزوجات، ج: 1، ص: 341، ط: دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100569
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن