بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بھائی ایک بہن میں میراث کی تقسیم


سوال

ہمارے  چھوٹے بھائی کا انتقال  ہوگیا ہے ،ان کے ورثاءصرف  میں ایک بھائی ،ایک بہن ہیں  اور کوئی وارث نہیں، ان کی جائیداد،مثلاً زمین ،گھر وغیرہ کچھ نہیں ،صرف اکاؤنٹ میں کیش موجود ہے ،اس کی تقسیم بتادیجیے!

جواب

صورت ِ مسئولہ میں مرحوم بھائی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق ِ متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے بقیہ مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دو حصے مرحوم کے زندہ بھائی کو اور ایک حصہ بہن کو ملے گا۔

صورت ِ تقسیم یہ ہے :

میت۔۔۔۔3

بھائیبہن
21

فیصد کے اعتبار سے66.66 فیصد بھائی کو اور 33.33 فیصد بہن کو ملے گا ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں