
میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ مرحوم کے والدین کا ان کی زندگی میں انتقال ہو گیا تھا۔
والد مرحوم کے ترکہ میں ایک گھرہے اور اس پر ایک پورشن بنا ہوا ہے، جس کا کرایہ آتا ہے۔ اسی طرح ایک دکان اور پلاٹ بھی ہے ۔ ان کا کاروبار بھی تھا جس پر بھائیوں نے قبضہ کرکے اسے بیچ دیا۔
اب ہمارے بھائی اور والدہ کسی بھی طرح ہم بہنوں کو حصہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور والدہ کہتی ہیں کہ والدہ جب تک زندہ ہو اس وقت تک میراث تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ان کا ہم بہنوں کے ساتھ بہت برا رویہ ہے، اس صورت حال کو واضح کرنے کے بعد چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1- والد صاحب کا کل ترکہ ورثاء میں کیسے تقسیم ہو گا؟ گھر اور دکان کا کرایہ کیسے تقسیم ہو گا؟ والدمرحوم کا جو کاروبار وغیرہ بیٹوں نے اپنے نام کرکے فروخت کر دیا ہےاس کا کیا حکم ہے؟
2- کیا اپنا حصہ لینے کے لیے شرعا قانونی کاروائی کی اجازت ہے؟
1- وراثت کی تقسیم میں شدید مجبوری کے بغیرتاخیر کرنا درست نہیں، جلد از جلد تمام وارثوں کو ان کا حصہ دینے کا حکم ہے،لہذا آپ کی والدہ کا یہ کہنا کہ ”والدہ (مرحوم کی بیوہ) جب تک زندہ ہو اس وقت میراث تقسیم نہیں ہو سکتی“درست نہیں، پس جتنا جلدی ہوسکے مرحوم کا ترکہ تقسیم کر کےہروارث کواس کا حصہ دے دیا جائے، نیزاگر بیٹیاں اپنا شرعی حق مانگتی ہوں تو یہ کوئی جرم نہیں کہ اس بناء پر ان کے ساتھ برا رویہ رکھا جائے۔
والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے ان کے تجہیز و تکفین کا خرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے بطور قرض ادا کیا ہو) نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہوتو اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اس کو ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کو 72 حصوں میں تقسیم کرکے 9 حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت (والد مرحوم): 72/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 9 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 19.444فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 9.722فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
والد مرحوم کے گھر اور دکان کا کرایہ اوپر ذکر کردہ تناسب کے اعتبار سے سب شرعی ورثاء میں تقسیم ہو گا، نیز بیٹوں کا مرحوم کے کاروبار کو اپنے نام کرکے بیچنا اور اپنی بہنوں کوحصہ نہ دینا جائز نہیں تھا، انہوں نے مرحوم کا کاروبار بیچ کر جو رقم استعمال کی ہے وہ ان کے حصوں سے منہا کرکے بقیہ حصہ انہیں دیا جائے گا۔
2- اگر باوجود کوشش کے بہنوں کو ان کا حصہ نہیں دیا جا رہا، تو انہیں اپنا حصہ لینے کے لیے شرعا قانونی کاروائی کی اجازت ہو گی۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني، ج: 2، ص: 889، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
ترجمہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو کسی پر ظلم مت کرو، کسی انسان کا مال اس کی رضامندی اور خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔“
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول."
(كتاب القسمة، ج: 6، ص: 260، ط: دار الفکر)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 1073): تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم."
(الکتاب العاشر: الشرکات، الباب الأول في ببان شرکةالملك ، الفصل الثاني في بیان کیفیة التصرف في الأعیان المشترکة، ص: 206، ط:نور محمد)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
"لما كانت الدعوى في حقيقتها إخبارا يقصد به طلب حق أمام القضاء، وهي تحتمل الصدق والكذب، فمن البدیهي أن تكون محرمة إذا كانت دعوى كاذبة، وكان المدعي يعلم ذلك، أو يغلب ذلك على ظنه. أما إذا كان يغلب على ظنه أنه محق في دعواه، فهي عندئذ تصرف مباح، فله أن يرفعها، إلا إذا كان يقصد بها الضرار، فتكون محرمة، كما لو كان يعلم أن غريمه لا ينكر حقه، وأنه على استعداد لتوفيته إياه، فيرفع الدعوى للتشهير به، فتكون محرمة."
(حرف الدال، دعوی، ج: 20، ص: 271، ط: دارالسلاسل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101033
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن