بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ اور دو بھائیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوا۔ ورثاء میں صرف ان کی بیوہ اور دو بھائی ہیں، ان کا ایک مکان ہے اس کی شرعی تقسیم درکار ہے، بھائی کو انتقال ہوئے ایک سال ہوگیا، جس مکان کو انہوں نے ترکہ میں چھوڑا ہے، اس کا کچھ پورشن کرایہ پر دیا ہوا ہے، اس کا کرایہ ان کی بیوہ وصول کررہی ہے، اور یہ کرایہ دونوں بھائیوں کی رضامندی سے لے رہی ہیں، مکان کو بیچنے سے پہلے جو کرایہ آرہا ہے اس کا کتنا حصہ  ورثاء  میں تقسیم ہوگا، اور اگر مکان کو بیچتے ہیں تو اس کی قیمت ورثاء کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں  مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے  ترکہ سےمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات نکالنے کےبعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ اسے ادا کرنے کے  بعد، اگر مرحوم نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اسے  ایک تہائی  ترکہ سےپورا کرنے کے بعد،  باقی  کل ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو آٹھ حصوں میں   تقسیم کر کے دو حصے مرحوم کی بیوہ  کو اور تین حصے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔ 

صورت تقسیم یہ ہے:

میت: 4 /8

بیوہبھائیبھائی
13
233

یعنی فیصد کے حساب سے25فیصدبیوہ کو   اور 37.5 فیصد ہر ایک بھائی کو  ملے گا۔ 

مکان سے جو کرایہ آرہا ہے اسے بھی مندرجہ بالا طریقے سے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، البتہ اگر مرحوم کے بھائی کرایہ میں سے اپنا حصہ بیوہ کے لیے چھوڑدیں تو یہ ان کی طرف سے نیکی ہوگی اور اگر مکان بیچ دیا جائے تو اس کی قیمت فروخت کو بھی اسی طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100724

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں