بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے کا والدہ کے پیسے لینا کیسا ہے؟


سوال

والد مرحوم کے ترکہ سے ہم بھائی بہنوں سمیت والدہ کے حصے میں رقم آئی ہے، اور سب سے بڑا بیٹا چاہتا ہے کہ والدہ کے حصے میں جو رقم آئی ہے وہ میں لے لوں، جبکہ ہم نے والدہ سے پوچھا تو والدہ ان کو دینا نہیں چاہتی، بلکہ کہتی ہیں کہ میرا حصہ میرے اکاؤنٹ میں ڈال دینا اور جب بھائی سے پوچھا تو بھائی کہتا ہے کہ والدہ اپنی مرضی سے ہم کو دینا چاہتی ہیں اور ہم ان کو اپنے ساتھ رکھیں گے اور ان کا پیسہ اپنے مکان خریدنے میں لگائیں گے، لیکن جب ان کو یہ کہا کہ تمہیں یہ پیسہ نہیں ملے گا تو بھائی نے کہا کہ پھر والدہ کو بھی تم ہی رکھو۔

والدہ کی عمر تقریبا 90 سال ہے والدہ کبھی کبھار چیزوں کو بھول جاتی ہے کھانے، پینےو دیگر چیزوں کو بھول جاتی ہیں ذہنی طور پر تھوڑی کمزور ہو چکی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ بڑے بھائی کا والدہ کا حصہ لینا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل  کی والدہ کو شوہر کے ترکہ سے جو حصہ ملا ہے، وہ حصہ انہی کی ملکیت جسے ان کی خواہش کے مطابق ان کے اکاونٹ میں ڈالنا ضروری ہے، بڑے بیٹے کے لیے والدہ کا  حصہ خدمت کے نام پر لینا درست نہیں، اسی طرح صرف پیسوں کی غرض سے والدہ کو اپنے پاس رکھنا، اور پیسے نہ ملنے کی بناء پر نہ رکھنا نہایت قبیح عمل ہے، والدہ کی  خدمت اور دیکھ بھال سب (بیٹے، بیٹیوں) کے ذمہ لازم ہے،  لہٰذا پہلے تو کوشش کی جائے کہ والدہ کا بنیادی خرچہ تمام اولاد اٹھائے، البتہ والدہ کے پاس جو رقم شوہر کے ترکہ سے آئی ہے، اس سے بھی ان کے اخراجات اٹھائے جاسکتے ہیں، تاہم والدہ کی رقم سے اپنا ذاتی گھر خریدنا، یا خریداری میں ان کی مرضی کے بغیر رقم صرف کرنا جائز نہیں ہوگا۔

مشكاة المصابيح ميں هے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ج: 2، ص: 889، ط: المكتب السلامي)

ترجمہ : اور حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں"۔

صحیح مسلم میں ہے:

''عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال "رغم أنف، ثم رغم أنف، ثم رغم أنف" قيل: من؟ يا رسول الله! قال "من أدرك أبويه عند الكبر، أحدهما أو كليهما فلم يدخل الجنة".''

(كتاب البر والصلة والآداب، ج: 4، ص:  1974، ط: مطبعة عيسى البابي الحلبي)

ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو گئی، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی، پھر اس کی ناک خاک آلود ہو گئی۔“ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون شخص ہے؟ فرمایا: ”جس کے ہوتے ہوئے اس کے ماں باپ، ان میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو بڑھاپے نے پایا، پھر وہ (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔“ 

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص: 27، ط: دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں