بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 محرم 1448ھ 19 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

میری والدہ کا انتقال ہوا ہے، ورثاء میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، والد کا انتقال پہلے ہوگیا تھا، والدہ کے والدین کا انتقال بھی پہلے ہوگیا تھا، ورثاء میں ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

صورت ِمسئولہ میں مرحومہ والدہ کے ترکہ کی  تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے حقوق متقدمہ، یعنی تجہیز و تکفین (کفن ، دفن)کے اخرجات ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ  کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے باقی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد،  اگر مرحومہ نےکوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے نافذ کرنےکےبعد باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو7 حصوں میں تقسیم کر کے 2 حصے مرحومہ کے بیٹے کو اور 1،1حصہ مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت: 7

بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
211111

یعنی 100 میں سے 28.57 فیصد مرحومہ کےہر بیٹے کو اور 14.28فیصد مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں