بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹا اور پانچ بیٹیوں میں تقسیم ترکہ


سوال

میرے والدصاحب کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، مرحوم کی بیوی یعنی ہماری والدہ اوروالدین کا ان کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔

مرحوم کے ترکہ میں ایک گھراور تین دکانیں ہیں۔ گھر کا رقبہ: لمبائی  34 فٹ، چوڑائی 22 فٹ۔  دکان کارقبہ: لمبائی  20 فٹ، چوڑائی  15 فٹ۔

مرحوم کا ترکہ کیسے تقسیم ہو گا؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم کے ترکہ سے ان کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو، یا کسی نے بطور قرض ادا کیا ہو، کو) نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ قرض ہوتو اس کو ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اس کو  باقی مال کے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنے کے بعدبقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 7 حصوں میں تقسیم کر کے 2حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو، اور 1 حصہ مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت (والد): 7

بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
211111

یعنی فیصد کے اعتبار سے 28.571 فیصد مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو، اور 14.285 فیصد مرحوم کی ہرایک بیٹی کو ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100750

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں