بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹا، چار بیٹیاں، دو نواسیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

1۔میرے والد صاحب کو ہمارے دادا کی طرف سے ترکہ میں ڈیڑھ کروڑ روپے حصہ ملا تھا، والد صاحب کا 30 سال قبل انتقال ہوگیاتھا، ان کے ڈھائی سال بعد والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا،  ورثاء میں ایک بیٹا، پانچ بیٹیاں تھیں، دادا، دادی، نانا، نانی کا والدین کی حیات میں ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔

2۔والدہ کے انتقال کے بعد میری ایک بہن کاانتقال ہوا، شوہر کا بہن سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا،ورثاء میں دو بیٹیاں، ایک بھائی، چار بہنیں تھیں۔

مرحوم کا ترکہ ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد  کے ترکہ کی  شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ  ترکہ  میں سے سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا گیاہو، یا کسی نے بطورِ قرض ادا کیا ہو)نکالنے  کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض   ہو تو کل ترکہ سے اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو   اسے  ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ  منقولہ و غیر منقولہ  کے 126  حصے کر کے اس میں سے 38 حصے مرحوم کے بیٹے کو، 19 حصے ہر ایک زندہ بیٹی کو،6 حصے مرحومہ بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

مرحوم والدین:126/7

بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
211111
3618181818فوت شدہ

مرحومہ بیٹی:18/3، مافی الید:1

بیٹیبیٹیبھائیبہنبہنبہنبہن
 111
6621111

یعنی سو فیصد  میں سے 30.15 فیصد مرحوم کے بیٹے کو،15.07فیصد  ہر ایک زندہ بیٹی کو،4.76 فیصد مرحومہ بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں