
1۔میرے والد صاحب کو ہمارے دادا کی طرف سے ترکہ میں ڈیڑھ کروڑ روپے حصہ ملا تھا، والد صاحب کا 30 سال قبل انتقال ہوگیاتھا، ان کے ڈھائی سال بعد والدہ کا بھی انتقال ہوگیا تھا، ورثاء میں ایک بیٹا، پانچ بیٹیاں تھیں، دادا، دادی، نانا، نانی کا والدین کی حیات میں ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔
2۔والدہ کے انتقال کے بعد میری ایک بہن کاانتقال ہوا، شوہر کا بہن سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا،ورثاء میں دو بیٹیاں، ایک بھائی، چار بہنیں تھیں۔
مرحوم کا ترکہ ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد کے ترکہ کی شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ (اگر اب تک ادا نہ کیا گیاہو، یا کسی نے بطورِ قرض ادا کیا ہو)نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کے 126 حصے کر کے اس میں سے 38 حصے مرحوم کے بیٹے کو، 19 حصے ہر ایک زندہ بیٹی کو،6 حصے مرحومہ بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
مرحوم والدین:126/7
| بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
| 36 | 18 | 18 | 18 | 18 | فوت شدہ |
مرحومہ بیٹی:18/3، مافی الید:1
| بیٹی | بیٹی | بھائی | بہن | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 1 | 1 | ||||
| 6 | 6 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی سو فیصد میں سے 30.15 فیصد مرحوم کے بیٹے کو،15.07فیصد ہر ایک زندہ بیٹی کو،4.76 فیصد مرحومہ بیٹی کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102164
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن