بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بازو ایک ہونے کی صورت میں وضو اور نماز کا طریقہ


سوال

ميں  پچھلے مہینے ایک کار حادثے کا شکار ہوا جس کی وجہ سے ایک بازو سے محروم ہو گیا۔ اب مجھے یہ معلومات لینی ہیں کہ ایک بازو سے نماز پڑھنے اور نماز کا وضو کرنے کا کیا طریقہ ہو گا؟

جواب

ایک بازو کے کٹ جانے کی صورت میں باقی بازو (اگر کہنی تک باقی ہو) کو دھو کر وضو کیا جائے، کٹے ہوئے بازو کا دھونا ساقط ہے، اور اگر کچھ حصہ باقی ہے تو اتنا ہی حصہ دھویا جائے۔ نماز عام طریقے سے پڑھی جائے، قیام، رکوع اور سجدہ میں ممکن حد تک اصل حرکات کیے جائیں، باقی بازو سے اشارہ کیا جائے۔باقی جو اعمال ِ نماز اس بازو کے نہ ہونے کی وجہ سے ادا نہ ہو پائے، تو اس میں سائل معذور ہے۔ان شاء اللہ پورا ثواب ملے گا۔

 رد المحتار على الدر المختارمیں ہے:

"وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه فالاقتداء بغيره أولى، تاترخانية. وكذا أجذم، بيرجندي. ومجبوب وحاقن ومن له يد واحدة، فتاوى الصوفية عن التحفة. و الظاهر أنّ العلة النفرة، ولذا قيد الأبرص بالشيوع؛ ليكون ظاهرًا، ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضًا في المفلوج و الأقطع والمجبوب."

(كتاب الصلاة،ج:1 ص:2 ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144212201706

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں