بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

 دو بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوہ ہیں، ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلےمرحوم کے کل ترکہ میں سے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو،  تو کل ترکہ سے  اس کی ادائیگی کے بعد اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے  ایک تہائی حصہ میں نافذکرکے باقی کل منقولہ وغیر منقولہ  ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کرکے ایک  حصہ مرحوم کی بیوہ کو، 2،2 حصے ہر ایک بیٹے کو   اورایک ایک حصہ  ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت :8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
122111

یعنی فیصد کے اعتبار سے100 میں سے  12.50 حصےمرحوم کی بیوہ کو، 25 ،25 حصے اُس کے ہر ایک بیٹےکو اور 12.50 حصے اُس کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100316

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں