بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے اور پانچ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے والد صاحب کا 2013ء میں انتقال ہوا، اان کےورثاء میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، والد مرحوم  کے والدین اور زوجہ (یعنی ہماری والدہ)کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا، والد صاحب کی ملکیت میں ایک گاڑی اور ایک دکان تھی۔

1۔اب سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی؟

2۔ میں  نے 2001 میں والد کی حیات میں ایک گھر لیا تھا، اور میں نے  یہ گھر  اپنے ہی پیسوں سے خریدا تھا،میرا اپنا کاروبارتھا، والد صاحب نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا تھا، وہ گھر میرے ہی نام پر ہے  اور تعمیر وغیرہ سب کچھ میں نے اپنی ہی رقم سے کی ہے ۔ اس سے پہلے والد صاحب اپنے ذاتی مکان میں رہتے تھے، پھر یہ مکان خریدنے کے بعد میں والدین کو اسی گھر میں اپنے پاس لے آیا، اب یہ گھر کیا میری ملکیت ہے یا والد صاحب کا ہوگا؟

اور کیا اس گھر میں والد کے ورثاء کا کوئی حق ہے ؟کیا وہ اس گھر میں حصہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں؟

واضح رہے کہ جو مکان والد کا تھا وہ انہوں نے والدہ کو دیا تھا ، اور والدہ نے والد کی زندگی میں اسے فروخت کرکے رقم اولاد میں تقسیم کردی تھی ۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل کے والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو باقی ترکہ کے ایک تہائی سے اس کو نافذ کرنے کے بعد، کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 7 حصوں میں تقسیم کر کے2 حصے مرحوم کے بیٹے (سائل) کواور ایک ایک حصہ مرحوم  کی ہرایک بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

مرحوم (والد):7

بیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
211111

یعنی فیصد کے حساب سے 28.571فیصد مرحوم کے بیٹے (سائل )کواور14.285 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

2۔سائل نے مذکورہ گھر اگر اپنی ذاتی رقم سے خریدا تھااور اپنے لیے خریدا تھا تو یہ  گھر سائل کی ملکیت شمار ہوگا، والد مرحوم کے دیگر ورثاء کا سائل کے ذاتی گھر میں کوئی حق نہیں ہے اور  ان کو اس گھر میں سے   والد کی میراث کے حصے کے مطالبہ کا حق نہیں ہوگا۔

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ‌‌(المادة 96) لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، ج:1، ص:96، ط: دارالجيل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100767

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں