
کتے نے بکری کو کاٹا، پانچ دن کے بعد ہم نے خریدار کو نقص اور عیب بتائے بغیر بکری بیچ دی، اب اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ عیب دار چیز فروخت کرتے ہوئے بائع پر لازم ہے کہ وہ خریدار کو اس عیب سے با خبر کر دے، عیب چھپانا گناهِ كبيره اور حرام ہے، تاہم خریدار کو خیارِ عیب حاصل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے خریدار کو عیب و نقص کا علم ہو جانے کے بعد یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ راضی ہو کر بغیر کسی مطالبہ کے پوری مبیع(خریدی گئی چیز) کوپوری اصل قیمت (جس پر پہلے سودا ہوا) کے ساتھ لے یا کُل قیمت واپس لے کر کُل مبیع بائع کے حوالے کردے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر شرعاً لازم تھا کہ وہ فروخت کرتے وقت بکری کا مذکورہ عیب بیان کرتا، مذکورہ بکری کا گوشت یا دودھ وغیرہ استعمال کرنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، سائل کو چاہیے کہ خریدار کو اس عیب سے با خبر کردے، عیب کا علم ہونے کے بعد خریدار اگر اس بکری کو واپس کرنا چاہے تو پوری رقم واپس لے کر بکری کو سائل کے حوالے کردے، اور اگر خریدار اس عیب دار بکری کو رکھنے پر راضی ہوا تو بیع تام ہو کر مذکورہ بکری کا مالک ہو جائے گا ۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة -رضي الله عنه- أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مر على صبرة طعام. فأدخل يده فيها. فنالت أصابعه بللا. فقال: (ما هذا يا صاحب الطعام؟) قال: أصابته السماء. يا رسول الله! قال:(أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني)".
ترجمہ:" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے، توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: توتم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا، تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے)"۔
(كتاب الإيمان، ج:1، ص:99، الرقم:102، ط:دار إحياء التراث العربي)
فتاوی شامی میں ہے:
"من وجد بمشريه ما ينقص الثمن عند التجار أخذه بكل الثمن أو رده... لا يحل كتمان العيب في معيب أو ثمن لأن الغش حرام...قال في البحر: و إلی هنا ظهر أن خيار العيب يسقط بالعلم به وقت البيع أو وقت القبض أو الرضا به بعدهما أو اشتراط البراءة من كل عيب أو الصلح علی شيئ... قوله (لأن الغش حرام) ذكر في البحر أول الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوی إذا باع سلعة معيبة عليه البيان و إن لم يبين قال بعض مشائخنا يفسق و ترد شهادته... لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة".
(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:5 و47، ط:دار الفكر)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا اشترى شيئا لم يعلم بالعيب وقت الشراء ولا علمه قبله والعيب يسير أو فاحش فله الخيار إن شاء رضي بجميع الثمن وإن شاء رده كذا في شرح الطحاوي... وليس له أن يمسكه ويأخذ النقصان".
(کتاب البیوع ، الباب الثامن في خيار العيب، الفصل الأول، ج:3، ص:66، ط:دار الفكر)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"وهو ما يخلو عنه أصل الفطرة السليمة (من وجد بالمبيع عيبا أخذه بكل الثمن أو رده) لأن مطلق العقد يقتضي السلامة من العيب فكانت السلامة كالمشروطة في العقد صريحا لكونها مطلوبة عادة فعند فواتها يتخير كي لا يتضرر بإلزام ما لا يرضى به... ولكون السلامة كالمشروطة في العقد لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله عليه السلام :(لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له)، رواه ابن ماجه".
(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:4، ص:31، ط:المطبعة الكبرى)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101055
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن