بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

اہل محلہ کی جانب سے امام صاحب کا اعتکاف کرنے کا حکم


سوال

امام صاحب کا اہل محلہ کی طرف سے اعتکاف کرنے سے اہل محلہ برئ الذمہ ہوں گے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اہل محلہ کی مسجد میں امام صاحب کی جانب سے اعتکاف کرنے سے اہل محلہ کا سنت کفایہ ادا ہوجائے گا، اور اہل محلہ اس سنت کی ادائیگی سے برئ الذمہ ہوں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الإنكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الأزمنة) هو بمعنى غير المؤكدة.  (وشرط الصوم) لصحة (الأول) اتفاقا (فقط) على المذهب. قال ابن عابدین: (قوله أي سنة كفاية) نظيرها إقامة التراويح بالجماعة فإذا قام بها البعض سقط الطلب عن الباقين فلم يأثموا بالمواظبة على ترك بلا عذر، ولو كان سنة عين لأثموا بترك السنة المؤكدة إثما دون إثم ترك الواجب كما مر بيانه في كتاب الطهارة."

(‌‌كتاب الصوم، باب الاعتكاف: 2/ 442، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں