
کیا اہلِ کتاب سے نکاح ہوسکتا ہے؟
مسلمان عورت کا نکاح اہلِ کتاب (یہودی و نصرانی) مرد سے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ جہاں تک مسلمان مرد کا تعلق ہے، تو اس کے لیے بھی بلا ضرورتِ شدیدہ اہلِ کتاب عورت سے نکاح کرنا مکروہ اور کئی معاشرتی و دینی مفاسد کا باعث ہے؛ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔ تاہم، ایک مسلمان مرد کا کتابیہ عورت سے نکاح درج ذیل دو شرطوں کے ساتھ منعقد ہو سکتا ہے:
1۔ وہ صرف نام کی عیسائی/یہودی اور درحقیقت لامذہب دہریہ نہ ہو،بلکہ اپنے مذہبی اصول کوکم ازکم مانتی ہو، اگرچہ عمل میں خلاف بھی کرتی ہو، یعنی اپنے نبی پر ایمان رکھتی ہو اور اس پر نازل ہونے والی کتاب پر بھی ایمان رکھتی ہو، اگرچہ وہ توحید کی قائل نہ ہو۔
2۔وہ اصل ہی یہودیہ نصرانیہ ہو، اسلام سے مرتدہوکر یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی ہو۔
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ فرمائیں؛
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عبد الله بن إدريس، عن الصلت بن بهرام، عن شقيق، قال: تزوج حذيفة يهودية فكتب إليه عمر أن خل سبيلها، فكتب إليه: إن كانت حراما خليت سبيلها فكتب إليه: «إني لا أزعم أنها حرام، ولكني أخاف أن تعاطوا المومسات منهن»."
( كتاب النكاح، من كان يكره النكاح في أهل الكتاب، ج:3 ص:474 ط: مکتبةالرشد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100713
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن