بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اہلِ کتاب سے نکاح کا حکم


سوال

کیا اہلِ کتاب سے نکاح ہوسکتا ہے؟

جواب

مسلمان عورت کا نکاح اہلِ کتاب (یہودی و نصرانی) مرد سے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔ جہاں تک مسلمان مرد کا تعلق ہے، تو اس کے لیے بھی بلا ضرورتِ شدیدہ اہلِ کتاب عورت سے نکاح کرنا مکروہ اور کئی معاشرتی و دینی مفاسد کا باعث ہے؛ لہٰذا اس سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔ تاہم، ایک مسلمان مرد کا کتابیہ عورت سے نکاح درج ذیل دو شرطوں کے ساتھ منعقد ہو سکتا ہے:

1۔  وہ  صرف نام کی عیسائی/یہودی اور درحقیقت لامذہب دہریہ نہ ہو،بلکہ اپنے مذہبی اصول کوکم ازکم مانتی ہو، اگرچہ عمل میں خلاف بھی کرتی ہو، یعنی اپنے نبی پر ایمان رکھتی ہو اور اس پر نازل ہونے والی کتاب پر بھی ایمان رکھتی ہو، اگرچہ وہ توحید کی قائل نہ ہو۔

2۔وہ اصل ہی یہودیہ نصرانیہ ہو، اسلام سے مرتدہوکر یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی ہو۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ فرمائیں؛

اہلِ کتاب سے نکاح کا حکم؛

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عبد الله بن إدريس، عن الصلت بن بهرام، عن شقيق، قال: تزوج حذيفة يهودية ‌فكتب ‌إليه ‌عمر ‌أن ‌خل ‌سبيلها، فكتب إليه: إن كانت حراما خليت سبيلها فكتب إليه: «إني لا أزعم أنها حرام، ولكني أخاف أن تعاطوا المومسات منهن»."

( كتاب النكاح، من كان يكره النكاح في أهل الكتاب، ج:3 ص:474 ط: مکتبةالرشد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100713

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں