
اگر نماز کے مقررہ وقت میں امامِ مسجد ابھی تک مسجد میں نہ پہنچا ہو، اور مسجد کے منتظمین یا امراءِ مسجد امام کے آنے کا انتظار کیے بغیر جماعت قائم کرنا چاہتے ہوں، جبکہ مسجد میں اہلِ علم، حفاظِ کرام اور قراء حضرات بھی موجود ہوں، تو کیا ایسی صورت میں کسی عامی شخص کے لیے جماعت کھڑی کرنا اور امامت کرنا شرعاً جائز ہے ؟
واضح رہے کہ پیش امام امامت کا سب سے زیادہ حقدار ہوتا ہے، اس کے غیر موجودگی میں ایسا عالم جو حافظ بھی ہو امامت کا حقدار ہوتا ہے، علماء و حفاظ کی موجودگی میں عامی شخص کے لیے جماعت کرانا درست نہیں؛ کیوں کہ عامی شخص نماز کے تمام احکامات سے واقف نہیں ہوتا تو عین ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسی غلطی کر جائے جس سے نماز ہی فاسد ہو جائے، اور اسے خبر ہی نہ ہو، یا قراءت کرتے ہوئے لحن جلی کر بیٹھے جس کی وجہ سے سب کی نماز فاسد ہو جائے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر کسی وقت امام صاحب کے آنے میں تاخیر ہو جائے، اور آنا یقینی ہو، تو جماعت کھڑی کرنے میں مقتدیوں کو جلدی نہیں کرنی چاہیے، نیز امام صاحب کو بھی وقت کی پابندی کرنی چاہیے، اگر کسی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو، تو مؤذن یا کمیٹی کے ذمہ داران کو باخبر کر دیا کریں تاکہ کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو، پھر اگر مؤذن امامت کی اہلیت رکھتا ہوتو وہ نماز پڑھائے ورنہ کوئی ایسا شخص نماز پڑھائے جو امامت کی اہلیت رکھتا ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) اعلم أن (صاحب البيت) ومثله إمام المسجد الراتب (أولى بالإمامة من غيره) مطلقًا.(قوله: مطلقًا) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه. وفي التتارخانية: جماعة أضياف في دار نريد أن يتقدم أحدهم ينبغي أن يتقدم المالك، فإن قدم واحدا منهم لعلمه وكبره فهو أفضل، وإذا تقدم أحدهم جاز لأن الظاهر أن المالك يأذن لضيفه إكرامًا له."
(كتاب الصلوة، باب الامامة، ج:1، ص:557، ط:ايچ ايم سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"ومنها: القراءة بالإلحان، إن غير المعنى وإلا لا."
(كتاب الصلوة،فروع مشي المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته، ج: 1، ص: 630، ط: سعيد)
وفيه أيضا:
"والأحق بالإمامة تقديما بل نصبا الأعلم بأحكام الصلاة فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة وحفظه قدر فرض وقيل واجب."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج: 1، ص: 557، ط: سعيد)
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"وإن غير المعنى تغييرا فاحشا، فإن قرأ:(وعصى آدم ربه فغوى)بنصب ميم آدم ورفع باء ربه ... وما أشبه ذلك، لو تعمد به يكفر، وإذا قرأ خطأ فسدت صلاته..."
(كتاب الصلاة،الفصل الخامس في زلة القارئ ، ج: 1، ص: 81، ط: المطبعة الكبرى الأميرية، بولاق، مصر)
احسن الفتاوی میں ہے:
"امام پر متعین وقت کا اہتمام لازم ہے:
سوال: عموماً مساجد میں جب امام مسجد گھڑی کے صحیح وقت پر نہیں پہنچتا تو نمازی معترض ہوتے ہیں، اور ان کو دو چار منٹ انتظار کرنا دشوار معلوم ہوتا ہے، حالانکہ انتظارِ صلوٰۃ کی حدیث اور یہ کہ اذان کے بعد نماز کے پورے وقت میں کسی وقت بھی جماعت کی اجازت ہے، اور وقت کا تعین محض سہولت کے لیے ہے، تاکہ مصلی اس وقت پر جمع ہو جائیں، یہ امر ان کے خیالات کا مؤید نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ:
① امام کا انتظار کیا جانا چاہیے یا نہیں؟ اور کتنا انتظار کیا جا سکتا ہے؟
② کیا امام پر گھڑی کے وقت کی ایسی پابندی کہ دو چار منٹ بھی تاخیر نہ ہو، از روئے شرع ضروری ہے؟
③ جو امام اکثر دو چار منٹ دیر سے مسجد میں پہنچ کر نماز پڑھاتا ہو اس کو کس بات کی احتیاط ضروری ہے؟
④ جو نمازی تاخیر پر مسجد میں شور و غل مچاتے ہیں اور چرچا کرتے ہیں، ان کا کیا حکم ہے؟
⑤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور قرونِ اولٰی میں کس طرح عمل رہا ہے؟
⑥ فقہاء کرام اس مسئلہ میں کیا تفصیل بتاتے ہیں؟
الْجَوَابُ بِاسْمِ مُلْهِمِ الصَّوَابِ
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک اور قرونِ اولٰی میں نیز حضراتِ فقہاء رحمہم اللہ تعالٰی کے دَور میں نہ دنیوی مشاغل زیادہ تھے اور نہ ہی گھڑیاں تھیں، اِس لیے جماعت کا اصول یہ رہا کہ وقت داخل ہونے کے بعد اذان ہوئی، اور اس کے بعد جب نمازیوں کا اجتماع ہو گیا جماعت قائم ہو گئی،
اس زمانہ میں ایک طرف دنیوی مشاغل میں مصروفیت بدرجئہ انہماک اور دوسری جانب دین میں غفلت و بے اعتنائی کے پیشِ نظر گھڑیوں کی سہولت سے استفادہ ناگزیر ہو گیا ہے، لہٰذا آج کل کے حالات کے پیشِ نظر گھڑی سے وقت کی تعیین اور امام کے لیے وقتِ معین کی پابندی ضروری ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابئہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں لوگوں کے اجتماع کو ملحوظ رکھا جاتا تھا، اب چونکہ گھڑی کے معین وقت پر ہی نمازی جمع ہوتے ہیں، لہٰذا یہ امر بھی اس کو مقتضی ہے کہ معین وقت سے تاخیر نہ کی جائے، علاوہ ازیں قرونِ اولٰی کے ائمہ تنخواہ نہیں لیتے تھے، اور اِس زمانہ کا امام تنخواہ دار ملازم ہے، اِس لیے بھی اس پر متعین وقت کی پابندی لازم ہے، البتہ نمازیوں پر امورِ ذیل کا خیال رکھنا ضروری ہے:
① اگر کبھی بتقاضائے بشریت امام کو چار پانچ منٹ تاخیر ہو جائے تو بے صبری اور چیخ و پکار کی بجائے صبر و تحمل سے کام لیں، اور اس تاخیر کو کسی عذر پر محمول کر کے امام پر زبان درازی اور طعن سے احتراز کریں،
② اگر امام ہمیشہ تاخیر سے آنے کا عادی ہو تو اسے ملاطفت سے سمجھانے کی کوشش کی جائے،
③ اگر تفہیم کے باوجود امام کی روش نہیں بدلتی تو انتظامیہ اسے معزول کر سکتی ہے، مگر اس صورت میں بھی امام سے متعلق بدزبانی اور اس کی غیبت ہرگز جائز نہیں، فقط واللہ تعالٰی اعلم۔ ۷ ،شوال ۹۵ھ
(باب الامامۃو الجماعۃ ،امام پر متعین وقت کا اہتمام لازم ہے، ج: 3، ص: 300,321، ط: ایچ ایم سعید کمپنی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102246
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن