بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اہل علاقہ کے ہجرت کرنے کی صورت میں مدرسہ کی منتقلی


سوال

 ہم ہجرت کر رہے ہیں کسی دوسری جگہ پر،  اپنے ہی رشتہ داروں سے کوئی جھگڑے ہوئے ہیں،  اب یہاں پر ہمارا مدرسہ بھی ہے تو کیا اس مدرسے کو ہم اکھاڑ کر لے جاسکتے ہیں اپنے ساتھ؟ کیونکہ جہاں ہم جارہے ہیں وہاں پر ہم نے مدرسہ بنانا ہے اور یہاں جو آباد ہیں ان کو کہا کہ آپ میں سے کوئی مدرسہ کا متولی بن جائے، اس کو چلائے  ہم اسکو نہیں اکھاڑتے،  لیکن انہوں انکار کیا کہ ہم اس کو نہیں چلاتے،  اسی طرح ایک مولانا صاحب کو بھی اور ایک قاری صاحب کو بھی کہا کہ آپ لوگ سنبھال لو،  اس میں بیٹھ جاؤ انہوں نے بھی صاف انکار کردیا ہے اور یہ صورت بھی نہیں ہے کہ کوئی باہر سے متولی بن جائے،  کیوں کہ یہ لوگ اس کو آنے نہیں دیں گے ، اب  اس کو نہ اکھاڑا جائے تو پھر اس کے ویران ہونے کا خطرہ یقینی ہے،  کیوں کہ پہلے ہمارے شہر میں ایک جگہ ایسے ہی مدرسہ تھا وہ ویران ہوا پڑا ہے،  بلکہ اب وہاں بیٹھک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ لوگ بھی اس کو بیٹھک بنالیں گے اور یہ لوگ اکھاڑ اکھاڑ کر ان کو اپنے لیے استعمال کریں گے،  اس لیے  ہم چاہتے ہیں کہ ویران رہنے سے اور ضائع ہونے سے اس کو ساتھ لے جائیں وہاں بھی مدرسہ بنانا ہے وہاں آباد رہے گا ۔

مجھے اس کے بارے میں تفصیل دیں کہ آیا اس کی اینٹیں،دروازے کھڑکیاں ہم اکھاڑ کر ساتھ لے جاسکتے ہیں ؟نیز اس زمین کو بھی بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟  نیز جنہوں نے زمین وقف کردی تھی مدرسہ کے لیے  وہ بھی ہجرت میں شامل ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ وقف جب درست اور صحیح ہوجائے  تو موقوفہ چیز قیامت تک کے لیے  واقف کی ملکیت سے  نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے، اس کے بعد اس کی خرید وفروخت کرنا، ہبہ کرنا، کسی کو مالک بنانا  یا اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتا، البتہ اگر  مسجد کے علاوہ دیگر اوقاف میں   واقف نے وقف کرتے وقت  ، ضرورت  کی وجہ سے  اس کو تبدیل کرنے کی شرط لگائی  ہو  یا وہ چیز   بالکل انتفاع کے قابل نہ ہو تو قاضی  کے لیے مصلحت کے پیش نظر اس کو دوسری غیر منقولی چیز (زمین، مکان وغیرہ)سے بدلنا جائز ہوتا ہے، لیکن واقف کی طرف سے وقف کرتے وقت اگر تبدیلی کی شرط نہ ہو، یا وہ جگہ انتفاع کے قابل ہو،  صرف دوسری جگہ اس سے بہتر ہو، یا اس میں کچھ فوائد زیادہ ہوں تو اس صورت میں وقف کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتا۔

 صورتِ مسئولہ میں   چوں کہ  مذکورہ مدرسہ وقف ہے،  لہذا   یہاں پر مدرسہ قائم کرنا ضروری ہے،  لہذا  مدرسہ کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ پوری کوشش کرکے اس جگہ مدرسہ ہی آباد کرنے کی کوشش کریں، اگر  خاندان ہجرت کررہا ہے اور چند لوگ وہاں رہ کر مدرسہ کا نظم ونسق چلاسکتے ہوں تو  اس کی ترتیب بنائیں، اگر یہ صورت نہ ہو تو کسی اور  متدین، امانت دار  اہل علم کو اس کی تولیت سپرد کردی جائے،  غرض یہ کہ جب تک مدرسہ سے انتفاع کی کوئی بھی  صورت ہو  تو اس پر عمل کیا جائے، البتہ اگر مکمل کوشش کے بعد بھی   اس کے انتفاع کی کوئی صورت نہ بنے ، اور اس کے ویران اور  ضائع ہونے  قوی اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں   قاضی  یا اس کے قائم مقام  کی اجازت سے اس زمین کو مارکیٹ ریٹ پر فروخت کرکے اس کے متبادل مدرسہ کے لیے زمین لینے کی گنجائش ہوگی، اسی طرح اس کے سامان کو بھی دوسری جگہ مدرسہ میں استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"وعندهما: حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد؛ فيلزم، ولا يباع ولا يوهب ولا يورث، كذا في الهداية. وفي العيون واليتيمة: إن الفتوى على قولهما، كذا في شرح أبي المكارم للنقاية." 

(کتاب الوقف،الباب الأول،2/  350، ط: رشیدیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) جاز (شرط الاستبدال به) أرضا أخرى حينئذ (أو) شرط (بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى إذا شاء فإذا فعل صارت الثانية كالأولى في شرائطها وإن لم يذكرها ثم لا يستبدلها) بثالثة لأنه حكم ثبت بالشرط والشرط وجد في الأولى لا الثانية (وأما) الاستبدال ولو للمساكين آل (بدون الشرط فلا يملكه إلا القاضي) در.

وشرط في البحر خروجه على الانتفاع بالكلية وكون البدل عقارا والمستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل، وفي النهر أن المستبدل قاضي الجنة فالنفس به مطمئنة فلا يخشى ضياعه.

 (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال، وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع ويأتي بقية شروط الجواز.

وأفاد صاحب البحر في رسالته في الاستبدال أن الخلاف في الثالث، إنما هو في الأرض إذا ضعفت عن الاستغلال بخلاف الدار إذا ضعفت بخراب بعضها، ولم تذهب أصلا فإنه لا يجوز حينئذ الاستبدال على كل الأقوال قال: ولا يمكن قياسها على الأرض فإن الأرض إذا ضعفت لا يرغب غالبا في استئجارها بل في شرائها أما الدار فيرغب في استئجارها مدة طويلة لأجل تعميرها للسكنى على أن باب القياس مسدود في زماننا وإنما للعلماء النقل من الكتب المعتمدة كما صرحوا به.

(قوله: وشرط في البحر إلخ) عبارته وقد اختلف كلام قاضي خان في موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف، حيث رأى المصلحة فيه وفي موضع منع منه: لو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه بلا شرط يجوز للقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية، وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش، وشرط الإسعاف أن يكون المستبدل قاضي الجنة المفسر بذي العلم والعمل لئلا يحصل التطرق إلى إبطال أوقاف المسلمين كما هو الغالب في زماننا اهـ ويجب أن يزاد آخر في زماننا: وهو أن يستبدل بعقار لا بدراهم ودنانير فإنا قد شاهدنا النظار يأكلونها، وقل أن يشتري بها بدلا ولم نر أحدا من القضاة فتش على ذلك مع كثرة الاستبدال في زماننا. اهـ".

(کتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه،  4/ 386، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709102175

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں