
ہمارے یہاں (موزمبیق) میں صدقۂ فطر کیوں لازم ہے؟ اس حوالے سے علماء کرام میں دو طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں:
(۱) پہلا موقف: بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر کا اصل مقصد فقراء کو عید کے دن خوشحال کرنا اور انہیں سوال سے بے نیاز کرنا ہے۔ اس کی دلیل میں یہ روایت پیش کی جاتی ہے: «أَغْنُوهُمْ فِي هَذَا الْيَوْمِ - يَعْنِي الْفُقَرَاءَ - عَنِ الْمَسْأَلَةِ» [الجامع الكبير للسيوطي: 1/723] وفي رواية: «أَغْنُوهُمْ عَنْ طَوَافِ هَذَا الْيَوْمِ» [البيهقي: 7739]
(۲) دوسرا موقف: ان علماء کے نزدیک صدقۂ فطر کے مقاصد میں روزے کی تطہیر اور مساکین کے لیے طعام فراہم کرنا دونوں شامل ہیں۔ اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے: «فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ...» [سنن أبي داود: 1609] نیز وقتِ ادائیگی کے حوالے سے یہ حدیث بھی پیش کی جاتی ہے: «...وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ» [صحیح البخاری: 1503]
اب ہمارے یہاں مدارسِ دینیہ کا نظام عمومی طور پر زکات، صدقۂ فطر، اور قربانی کی کھالوں پر قائم ہے۔ صدقۂ فطر کی رقوم مستحق طلبہ پر خرچ کی جاتی ہے، لیکن یہ خرچ عموماً عید کے دن یا اس سے قبل نہیں ہوتا بلکہ بعد میں (ماہِ شوال میں) تدریجًا کیا جاتا ہے۔ یہی مشاہدہ دوسرے موقف والے علماء کرام نے دوران تعلیم پاکستان اور ہندوستان وغیرہ کے مدارس میں بھی کیا۔ مزید یہ کہ صدقۂ فطر ادا کرنے والے لوگوں کے ذہن میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ ان کی دی ہوئی رقم عید کے دن ہی مستحقین پر خرچ کی جائے گی۔
اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
1. صدقۂ فطر کی اصل علتِ وجوب کیا ہے؟ کیا اغنائے فقراء فی یوم العید کو اصل قرار دیا جائے، یا تطہیرِ صائم اور طُعمۃً للمساکین دونوں اس میں داخل ہیں؟
2. کیا صدقۂ فطر کو عید سے پہلے یا یوم العید میں ادا کرنا لازم ہے، یا بعد میں تاخیر کی گنجائش ہے؟
3. اگر صدقۂ فطر عید کے بعد ادا یا خرچ کیا جائے تو کیا مقصدِ شرعی (خصوصاً اغنائے فقراء یوم العید) کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے گا؟
4. مدارس کے مستحق طلبہ پر صدقۂ فطر کی رقم کو عید کے بعد خرچ کرنے کی موجودہ صورت شرعاً کس درجے میں ہے؟
5. جبکہ دینے والوں کی نیت عموماً یہ ہوتی ہے کہ یہ رقم عید کے دن خرچ ہو، تو کیا اس نیت کا لحاظ کرنا لازم یا اولیٰ ہے؟
1.اللہ تعالی کے احکام، اوامر اور نواہی میں اصل ان کی تعمیل اور ان پر عمل ہے،صدقہ فطر کی علت اور اس کا سببِ وجوب ”رأس“ یعنی ذمہہے، اسی وجہ سے صدقہ فطر کو زکاۃ الرأس بھی کہاجاتا ہے، احادیث میں جو مضمون وارد ہوئے ہیں وہ صدقہ فطر کی حکمتیں ہیں علت نہیں ہیں، علامہ دبوسی الحنفی رحمہ اللہ کی کتاب تأسیس النظر میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ :"الأصل أنه يفرق بين علة الحكم وحِكمته فإن علته موجبة وحِكمته غير موجبة" یعنی علتِ حکم اور حِکمتِ حکم میں فرق ہے، حِکمت حکم حکم کو لازم کرنے والی نہیں ہوتی ہے، جبکہ علت ِحُکم حکم کو لازم کرنے والی ہوتی ہے۔باقی ایک حکمِ شرعی کی متعدد حکمتیں ہوسکتی ہیں، لہذا صورت مسئولہ ميں ذکر کردہ بحث بے جا ہےکیوں کہ صدقۂ فطر کی علتِ وجوب طے شدہ ہے۔
2. صدقۂ فطر عید کے دن سے پہلے رمضان میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے ،عید الفطر کی نماز سے پہلے پہلے ادا کرنا مسنون ہے،بلا کسی عذر اس میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے،تاہم اگر کوئی ایسا شرعی عذر لاحق ہوگیا کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا نہیں کرسکا تو تاخیر کی صورت میں گناہ نہیں ہوگا۔
3. حکمت کے پائے جانے اور نہ پائے جانے پر حکم کا مدار نہیں؛اگر سبب وجوب پایا گیا ہے تو صدقۂ فطر ادا کرنا بہرصورت واجب ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
4. اسی طرح اگر صدقہ فطر کی رقم مدارس کے طلباء پر خرچ کی جائے تو یہ بھی جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ان کی علم کے راہ میں آسانی کا باعث بننے کا بھی اجر ملے گا۔باقی مدارس کے نمائندے مدرسہ کے طلبہ کے وکیل ہوتےہیں، لہذا عید سے قبل صدقہ فطر مدارس کے طلباء کے لیے دینے سے دینے والے کا صدقہ ادا ہوجاتا ہے اور حدیث میں مذکور حکمت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔
5. دینے والوں کی اس نیت کا اعتبار لازم نہیں ہے کیونکہ مستحق اپنی ضرورت کو دیکھ کر ہی خرچ کرےگا اب اگر دینے والا کہتا ہے اس سے کپڑے خریدیں جبکہ لینے والے کو کپڑے سے زیادہ اپنے علاج یا کسی اور مصرف مثلا قرض کی ادائیگی پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا اس کی اس نیت کا لحاظ لازم نہیں ہے۔
سنن ابو داؤد میں ہے:
"عن ابن عباسٍ قال: فرض رسولُ الله صلى الله عليه وسلم زكاةَ الفِطْر طُهْرةً للصَائم مِن اللغو والرَّفثِ وطُعْمةً للمساكينَ."
(كتاب الزكاة، ج:3، ص: 52، ط:دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:
”حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر کو فرض کیا ہے تاکہ وہ روزہ دار کے لیے لغو اور بےہودہ باتوں سے پاکیزگی، اور مسکینوں کے لیے کھانے کا ذریعہ بنے۔“
تاسیس النظر میں ہے:
"الأصل أنه يفرق بين علة الحكم وحِكمته فإن علته موجبة وحِكمته غير موجبة."
(ترجمة الإمام النسفي مترجمة من الروضة، ص: 172، ط: مكتبة الكليات الأزهرية)
فتح القدير ميں ہے:
"قال (يخرج ذلك عن نفسه) لحديث ابن عمر رضي الله عنهما قال «فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر على الذكر والأنثى» الحديث (و) يخرج عن (أولاده الصغار) لأن السبب رأس يمونه ويلي عليه لأنها تضاف إليه يقال زكاة الرأس، وهي أمارة السببية.
(قوله والسبب رأس يمونه ويلي عليه) المفيد لسببية الرأس المذكور لفظ "عن" في قوله «عن كل حر وعبد صغير أو كبير ذكر أو أنثى» وكذا لفظ "على" بعد ما قامت الدلالة على أن المراد به معنى عن استفدنا منه أن هذه الصدقة تجب على الإنسان بسبب هؤلاء، والقطع من جهة الشرع أنه لا يجب عمن لم يكن من هؤلاء في مؤنته وولايته، فإنه لا يجب على الإنسان بسبب عبد غيره وولده."
(كتاب الزكاة، باب صدقة الفطر، ج: 2، ص: 284، ط: دار الفكر)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"ووقت الوجوب بعد طلوع الفجر الثاني من يوم الفطر فمن مات قبل ذلك لم تجب عليه الصدقة ۔۔۔۔ وإن أخروها عن يوم الفطر لم تسقط، وكان عليهم إخراجها كذا في الهداية ۔۔۔۔ والمستحب للناس أن يخرجوا الفطرة بعد طلوع الفجر يوم الفطر قبل الخروج إلى المصلى كذا في الجوهرة النيرة. وأما وقت أدائها فجميع العمر عند عامة مشايخنا رحمهم الله كذا في البدائع."
(كتاب الزكاة، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج: 1، ص: 192، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101103
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن