بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر تم نے میری شادی فلاں لڑکی سے کروائی تو اس کو تین طلاق، اس کے بعد اس سے نکاح کرنے سے طلاق کا حکم


سوال

ایک شخص نے اپنے والدین کو کہا کہ "اگر تم نے میری شادی فلاں لڑکی سے کروائی تو اس کو تین طلاق "، پھر والد نے اپنے بیٹے  کو بتائے بغیر اسی لڑکی سے بیٹے کی شادی کروادی، شادی کے بعد بیٹے  کو پتا چلا یعنی ایجاب و قبول کے بعد والد نے آکر بیٹے کو اطلاع دی نکاح کی، تو بیٹے نے فعلاً اس پر رضا مندی ظاہر کی، سب سے خوشی خوشی ملتا رہا اور مبارک باد قبول کرتا رہا، نکاح کو آٹھ سال ہوچکے ہیں، آیا  نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
وضاحت:ہمارے عرف میں والد یا بڑے بھائی نکاح کرواتے ہیں،لڑکے کے والد نے لڑکے کا نکاح اسی لڑکی سے کروایا، لڑکے نے جب یہ قول کہا تھا س وقت وہ بالغ تھا، میاں بیوی کو  ایک ساتھ رہتے ہوئے آٹھ سال ہوچکے ہیں،  لڑکے کا نکاح اس کے والد کروا کر جب گھر آئے تو لڑکے کو سب مبارک باد  دینے لگے،تو لڑکا سب کی مبارک باد قبول کرتا رہا اور مسکراتا رہا کوئی نکیر نہیں کی،کچھ عرصہ بعد رخصتی ہوئی اور لڑکا لڑکی کو آٹھ سال کا عرصہ ہوچکا ہے  وہ ساتھ رہ رہے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  جب مذکورہ شخص نے اپنے والدین کویہ  کہا تھا"اگر تم نےمیری شادی فلاں لڑکی سے کروائی تو اس کو تین طلاق " ،تو مذکورہ الفاظ کہنے کے ساتھ ہی تینوں طلاقیں مذکورہ لڑکی سے شادی کروانے کے ساتھ معلق ہوگئی تھیں،پس جب اس کے والد نے  مذکورہ لڑکی سے اپنے بیٹے کانکاح کرایا،تو نکاح ہوتے ہی تینوں معلق طلاقیں  واقع ہوگئیں،اور وہ شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی تھی۔

دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعا ناجائز و حرام تھا ، لہذا دونوں پر فی الفور علیحدگی ضروری ہے اور جتنا عرصہ ساتھ رہے اس پر توبہ و استغفار کریں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن ‌فرق ‌الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة."

(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج:1، ص:373، ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

"و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرّة و ثنتين في الأمة لم تحلّ له من بعد حتّى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثمّ يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق :الباب السادس فصل فیما تحلّ به المطلقه، ج:1، ص:473، ط:رشیدیة)

وفيه أيضا:

"وإذا أضافه إلی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقًا مثل أن یقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط،الفصل الثالث، ج:1، ص:420، ط:رشیدیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101596

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں