بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر موبائل توڑا تو تجھے طلاق، کہنے کا حکم


سوال

میاں بیوی میں دو طلاقیں ہو چکی ہیں، اکثر میاں بیوی کا جھگڑا رہتا تھا، اور بیوی چیزیں توڑ دیتی تھی، شوہر نے غصے سے کہا کہ اگر میرا موبائل توڑا تو تجھے طلاق ہو، لڑائی میں غصے میں بیوی نے موبائل توڑنے کی نیت سے پھینکا، لیکن موبائل ٹوٹا نہیں، صرف علیحدہ ہوا، اب شوہر قسمیں کھا رہا ہے کہ یہ کچھ دن پہلے خود میرے سے ٹوٹا ہے، آیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

وضاحت :  موبائل  چھوٹا ہے، جس کا کور کھل کر دوبارہ بند ہو سکتا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  شوہر نے بیوی کی طلاق کو موبائل کے ٹوٹنے پر معلق کیا  تھا اور بیوی کے  پھینکنے سے شوہر کا موبائل ٹوٹا نہیں، بلکہ صرف کور کھلا،جو کہ دوبارہ بند کر کے موبائل استعمال ہو سکتا ہے، تو ایسی صورت میں( شرط نہ پائی جانے  کی وجہ سے ) بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،نکاح بدستور قائم ہے، دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں۔

فتح القدیر میں ہے:

"وإذا أضافه إلى شرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال."

(كتاب الطلاق،‌‌ باب الأيمان في الطلاق، ج:4، ص:116، ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں