
ایک شخص نے اپنی بیوی کو کئی دفعہ یہ کہا ہے کہ "اپنا سامان اور کپڑے باندھ لے اور چلی جا،میرا اور آپ کا گزر بسر نہیں ہو رہا، اور مجھے آپ کی حاجت نہیں ہے"پھر اسی طرح ایک مرتبہ اپنی ساس کو کہا کہ"اپنی بیٹی کو لے جاؤ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے"۔
مذکورہ بالا جملہ سے طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟نیت ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں کا حکم بیان کیجئے!
صورت مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو یہ جملہ کئی مرتبہ کہا کہ "اپنا سامان اور کپڑے باندھ لے اور چلی جا،میرا اور آپ کا گزر بسر نہیں ہو رہا، اور مجھے آپ کی حاجت نہیں ہے" تو اگر اس نے اس جملہ سے طلاق کی نیت کی ہو تو ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، اگر طلاق کی نیت نہ کی ہو تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔
ملحوظ رہے کہ اگر اس شخص کی نیت طلاق کی تھی تو کئی مرتبہ یہ جملہ کہنے سے بھی اس کی بیوی پر ایک مرتبہ طلاق بائن واقع ہوگی،کیوں کہ ایک طلاق بائن کے بعد دوبارہ طلاق بائن واقع نہیں ہو تی،اور اس کے بعد اب اس شخص کے لیے رجوع کی گنجائش تو نہیں رہی البتہ اگر سابقہ میاں بیوی دونوں دوبارہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہیں تو شرعی گواہوں کے سامنے نئے مہر کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ہو گا،اور اس کے بعد شوہرکے پاس صرف دو طلاق دینے کا حق ہو گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"فالحالات ثلاث: رضا و غضب و مذاكرة و الكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردًّا ... (و في الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا."
(کتاب الطلاق، ج:3، ص:301، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) ... (لا) يلحق البائن (البائن)."
(کتاب الطلاق،ج:3، ص:306، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب ."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:409، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702101499
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن