
میری شادی کو بارہ سال ہو گئے تھے پھر میں نے دوسری شادی کی ، جب پہلی بیوی کو اطلاع ہوئی تو اس نے کہا کہ آپ نے دوسری شادی کیوں کی تو میں نے دوسری بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اور پھر مجھ سے بیوی نے حلف لیا کہ "اگر دوبارہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھا تو میرے اور تمھارے درمیان سب کچھ ختم ہو جائے گا" اسی طرح میں نے حلف لیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر میں نے تیسری شادی کی تو کیا پہلی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟ جب کہ جب میں نے حلف لیا تھا تو میری نیت پہلی بیوی کو چھوڑنے کی نہیں تھی۔
صورت مسئولہ میں سائل نے حلف اٹھاتے وقت جو الفاظ کہے تھے کہ "اگر دوبارہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھا تو میرے اور تمھارے درمیان سب کچھ ختم ہو جائے گا" تو ان الفاظ سے طلاق ہو نا نہ ہونا سائل کی نیت پر موقوف ہو گا، یعنی مذکورہ حلف اٹھاتے ہوئے اگر سائل کی نیت طلاق کی تھی تو مذکورہ الفاظ کہنے کی وجہ سے ایک طلاق بائن موقوف ہو گی، پہلی بیوی کے علاوہ کسی اور خاتون سے کسی قسم کا تعلق رکھنے کی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی ، جس کے بعد سائل کے پاس رجوع کا حق نہیں ہو گا، البتہ باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کر کے دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہو گی، مذکورہ الفاظ سے ایک مرتبہ طلاق ہو جانے کے بعد دوبارہ کوئی طلاق نہیں ہو گی ، تاہم مذکورہ حلف لیتے ہو ئے اگر سائل کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق معلق نہیں ہو گی، اور تیسری شادی کرنے کی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية."
(کتاب الطلاق،الفصل الخامس في الكنايات ،ج:1،ص:376،ط:دار الفکر بیروت)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
’’اگر ہندہ کو اس کے شوہر نے بہ نیتِ طلاق یہ کہا کہ ’’جا، آج سے میرا تیرا تعلق ختم‘‘ جیسا کہ مہر بھیجنے کے ذکر سے بھی معلوم ہوتا ہے تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔ وقتِ طلاق سے تین حیض گزرنے پر دوسری جگہ نکاح کی اجازت ہوگی، اگر حمل ہو تو وضعِ حمل سے عدت پوری ہوجائے گی۔فقط واللہ اعلم۔‘‘
(ج:12، ص:564،ط:فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100189
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن