بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آغا خانی مذہب کو چھوڑنے کے دعوی کے باوجود ان کے عبادت خانے میں جانے اور ان جیسی عبادت کرنے والے لڑکے سے اہلسنت لڑکی کے نکاح کا حکم


سوال

ہم  سنی مسلک تعلق رکھتے ہیں اور اپنی بیٹی کے نکاح کے بارے میں شرعی راہ نمائی چاہتے ہیں!

ایک رشتہ زیر غور ہے،  لڑکا اصل میں اسماعیلی آغا خانی پس منظر رکھتا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ سنی عقائد اختیار کر چکا ہے، تاہم چند باتیں  تشویش کا باعث ہیں:

1۔ وہ اب بھی آغا خانی برادری میں رہتا ہے۔

2 ۔وہ کبھی کبھار اپنے خاندان کے ساتھ جماعت خانے جاتا ہے۔

3 ۔اس کی والدہ باقاعدگی سے جماعت خانے جاتی ہیں۔

4 ۔ان کے خاندان نے اپنی ایک بیٹی جو خود کو سنی کہتی ہے، کا نکاح ایک اسماعیلی شخص سے کیا ہے اور وہ اس عمل کو غلط نہیں سمجھتے۔

میرا سوال یہ ہے کہ:

کیا ایسے شخص کو شرعاً سنی مسلمان سمجھا جا سکتا ہے؟

اس کے دعوائے رجوع (سنی ہونے) کی شرعی حیثیت جانچنے کے لیے کن عقائد اور اعمال کی تحقیق ضروری ہے؟

کیا ان حالات میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کرنا جائز اور مناسب ہوگا؟

نکاح سے پہلے کن امور کی مکمل تحقیق کرنی چاہیے؟

وضاحت: وہ لڑکا میری بیٹی کو کہتا ہے کہ میں سنی ہو چکا ہوں، لیکن میں(لڑکی کے والد) نے اس سے ملاقات کی اور اس سے پوچھا آپ کیسے اور کب سنی ہوئے، اور کیا عقائد وغیرہ ہیں، تو اس نے کوئی واضح جواب نہیں دیا، اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ آغا خانیوں کے  عبادت خانہ میں کیا کرنے جاتا ہے، اور نہ اس بارے میں اس نے معلومات دیں کہ وہ کب، کن عقائد کو چھوڑ کر اور کس کے ہاتھ پر سنی(مسلمان) ہوا۔

جواب

واضح رہے کہ آغاخانی اپنے باطل عقائد ونظریات کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج اور مسلمانوں سے الگ ایک مستقل مذہب ہے،  کسی بھی مسلمان لڑکے یا لڑکی کے لیے کسی آغا خانی لڑکی یا لڑکے سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے، اگر نکاح کر بھی لیا جائے تب بھی یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔

نیز اسلام لانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کی جائے اورسابقہ مذہب کی تمام عبادات اور کفریہ رسومات چھوڑ دی جائیں، اگر کوئی  شخص اپنے آپ کا اسلام لانے کے دعوی کرنے کے باوجود سابقہ مذہب کی تمام عبادات و ناجائز رسومات   کو جائز سمجھتے ہوئے  کرتا ہے  تو اسے مسلمان نہیں کہا جائے گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکا جب اپنے آپ کو سنی کہنے کے باوجود اپنے عقائد واضح نہیں کرتا اور  آغاخانیوں کے عبادت خانے میں جانے اور وہاں عبادت کرنے  کو جائز سمجھتا ہے، تو اس کو سنی مسلمان نہیں سمجھا جائے گا، اور اس کے ساتھ آپ کی بیٹی کا نکاح جائز نہیں ہو گا۔

البتہ اگر وہ لڑکا سچے دل سے سابقہ اسماعیلی  مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لے تو پھر آپ کی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ درست ہو گا، تاہم   آپ اپنی بیٹی کا رشتہ  صحیح اہل سنت دین دار گھرانے میں کریں تاکہ  آغاخانی گھرانے میں رہن سہن کی وجہ سے مستقبل میں آپ کی بیٹی کے عقائد خراب نہ ہوں، جو کہ سخت پریشانی کا باعث ہو گا۔

اسماعیلیت سے تائب ہونے والے ڈاکٹر زاہد علی  اپنی کتاب ’’ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام‘‘ کے مقدمہ میں تحریر فرماتے ہیں:

”حقیقت یہ ہے کہ اسماعیلی مذہب کی ابتدائی بناء اس اصول پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری شریعت وضع فرمائی اور مولانا علی علیہ السلام نے اس کے باطن یعنی تاویل کی تعلیم شروع کی۔ آپ کے بعد چھ امام یعنی مولانا حسن، مولانا حسین، مولانا علی زین العابدین، مولانا باقر، مولانا جعفر صادق اور مولانا اسماعیل ہوئے جنہوں نے باطنی تعلیم کی تکمیل کی اس لیے یہ ”ائمہ متمین“ کہلاتے ہیں، ساتویں امام مولانا محمد بن اسماعیل جو سابع المتمین، خاتم الائمہ، قائم الاتماء، سابع الرسل اور سابع النطقاء کہے جاتے ہیں آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے شریعتِ محمدی کے ظاہر کو معطل کردیا۔ آپ نے محمد المصطفی کے دور کو پورا کیا اور آپ سے ساتواں دور شروع ہوا جس سے عالم طبیعت کی انتہاء اور دورِ روحانی کی ابتدا ہوئی۔ آپ کی نسل میں جو ائمہ ہوئے اور قیامت تک ہوں گے وہ سب خلفاء قائم ہیں۔ جو قائم کی دعوت کے فرائض ادا کریں گے۔ ان میں سے اگر کسی خلیفہ کو موقع ملے تو وہ قائم کی حیثیت سے ظہور فرمائیں گے اور تاویل یعنی علمِ باطن ظاہر کر کے تمام دنیا کو اسماعیلی مذہب کا پیرو بنائیں گے۔"

(ہمارے اسماعیلی مذہب کی بنیاد، مقدمہ: ص:م، ط: مکتبہ بینات)

ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں:

”اکثر مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسماعیلی مذہب بالکل ایک نئی چیز ہے۔ اسے اسلام سے بہت کم تعلق ہے، اس کے مآخذ یہودی، نصرانی اور یونانی ہیں۔ اس کا فلسفہ خاص کر جدید افلاطونی فلسفہ سے ماخوذ ہے۔ اسلام کا اس پر صرف رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔ اسماعیلی رجعت، حلول، تناسخ خصوصاً تعطیل و اباحت کے علمبردار ہیں۔“

(ہم اسماعیلیوں پر اہلِ ظاہر کے الزامات، مقدمہ: ص:غ/2، ط: مکتبہ بینات)

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ  ۭ وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَـتْكُمْ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا ۭ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ ۭ اُولٰئِكَ يَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ  وَاللّٰهُ يَدْعُوْا اِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِه ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِه لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَــتَذَكَّرُوْنَ} [البقرة: 221]

ترجمہ: ”اور نکاح مت کرو کافر عورتوں کے ساتھ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان عورت (چاہے) لونڈی (کیوں نہ ہو وہ ہزار درجہ) بہتر ہے کافر عورت سے گو وہ تم کو اچھی ہی معلوم ہو۔  اور عورتوں کو کافر مردوں کے نکاح میں مت دو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجاویں اور مسلمان مرد غلام بہتر ہے کافر مرد سے گو وہ تم کو اچھا ہی معلوم ہو (کیوں کہ) یہ لوگ دوزخ ( میں جانے) کی تحریک دیتے ہیں ۔ اور الله تعالیٰ جنت اور مغفرت کی تحریک دیتے ہیں اپنے حکم سے اور اللہ تعالیٰ اس واسطے آدمیوں کو اپنے احکام بتلادیتے ہیں تاکہ وہ لوگ نصیحت پر عمل کریں۔“ (بیان القرآن)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي - عليه الصلاة والسلام - تحريمه كنكاح المحارم فكافر. اهـ. قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلما فإنه يكفر مستحله على أحد القولين. اهـ. وحاصله أن شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراما لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط وعلمت ترجيحه، وما في البزازية مبني عليه".

(كتاب الزكاة،2/ 292،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں