بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ادا نہ کی جاسکے تو کیا حکم ہے؟


سوال

میں مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ادا نہیں کر سکی تو اب دم واجب ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر صرف مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے دم واجب نہیں ہے۔ تاہم اگر وقوف مزدلفہ رہ گیا ہو، یعنی دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے لے کر سورج طلوع ہونے تک ایک لمحہ بھی مزدلفہ میں نہ گزار سکی ہو(جب کہ کوئی عذر نہ ہو) تو ایسی صورت میں سائلہ پر دم واجب ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما زمانه فما بين طلوع الفجر من يوم النحر، وطلوع الشمس فمن حصل بمزدلفة في هذا الوقت فقد أدرك الوقوف، سواء بات بها أو لا، ومن لم يحصل بها فيه فقد فاته الوقوف...وأما حكم فواته عن، وقته أنه إن كان لعذر فلا شيء عليه لما روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم ضعفة أهله، ولم يأمرهم بالكفارة» ، وإن كان فواته لغير عذر فعليه دم؛ لأنه ترك الواجب من غير عذر، وإنه يوجب الكفارة."

(کتاب الحج، ج:2، ص:136، ط: دار الکتب العلمیة)

وفیہ أیضاً:

"ويبيت ليلة المزدلفة بمزدلفة؛ لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم بات بها، فإن مر بها مارا بعد طلوع الفجر من غير أن يبيت بها فلا شيء عليه، ويكون مسيئا، وإنما لا يلزمه شيء؛ لأنه أتى بالركن، وهو كينونته بمزدلفة بعد طلوع الفجر، لكنه يكون مسيئا لتركه السنة، وهي البيتوتة بها."

(کتاب الحج، ج:2، ص:156، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں