
مجھے ظہر کی نماز کے بعد خیال ہوا کہ میں نے ظہر کی چار سنتوں میں واجب ترک کیا ہے اور سجدۂ سہو بھی نہیں کیا، لیکن میں نے وقت کے اندر اسے لوٹایا بھی نہیں، تو اب حکمِ شرعی کیا ہے؟ کیا مجھ پر قضا لازم ہوگی؟ اس لیے کہ ہم نے سنا ہے کہ نفل اعمال شروع کر دینے سے واجب ہو جاتے ہیں؟
واضح رہے کہ اگر کسی شخص سے نماز میں بھولے سے کوئی واجب رہ گیا اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا،ہو، تو ایسی نماز ادا تو ہو جاتی ہے لیکن ناقص رہتی ہےاوروقت کے اندراس نماز کا اعادہ واجب ہو گا اور اس نماز کا وقت کے گزر جانے کے بعد وجوب ساقط ہو جائے گا،البتہ توبہ و استغفار لازم ہو گااور اب اس نماز کا اعادہ کرنا مستحب ہو گا، البتہ صورتِ مسئولہ میں چوں کہ معاملہ ظہر کی سنتوں کا ہے ، اور سائل سے ظہر کی سنتوں میں واجب ترک ہوا تھا اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا تھا تو سائل کو چاہیے تھا کہ وقت کے اندر اندر ہی دوبارہ پڑھ لیتا، لیکن وقت گزر جانے کے بعد ان سنتوں کی قضا لازم نہیں، بلکہ اب اعادہ کرنا بھی ضروری نہیں، کیوں کہ سنتوں کی قضا نہیں ہوتی۔ نيز جہاں تک یہ اصول ہے کہ “نفل عبادت شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے” تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر نفل میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کی قضا بھی واجب ہو جائے، خصوصاً جب کہ وقت بھی گزر چکا ہو، لہٰذا نمازا دا ہو گئی، لیکن ناقص ادا ہوئی۔
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:
"وحكم الواجب استحقاق العقاب بتركه عمدا وعدم إكفار جاحده والثواب بفعله ولزوم سجود السهو لنقض الصلاة بتركه سهوا وإعادتها بتركه عمد أو سقوط الفرض ناقصا إن لم يسجد ولم يعد.
قوله: "إستحقاق العقاب" هو دون عقاب ترك الفرض قوله: "والثواب بفعله" هو الحكم الأخروي وأما الحكم الدنيوي فهو سقوط المطالبة قوله: "وإعادتها بتركه عمدا" أي ما دام الوقت باقيا وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما".
(كتاب الصلاة، فصل في بيان واجب الصلاة، ص:247/248، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ أیضاً:
"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت وأما بعده فندبا".
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:440، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح) لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، بخلاف القياس فغيره عليه لا يقاس (بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد".
(قوله بخلاف القياس) متعلق بورود أو بقضائها فافهم، وذلك لأن القضاء مختص بالواجب لأنه كما سيذكره في الباب الآتي فعل الواجب بعد وقته فلا يقضي غيره إلا بسمعي، وهو قد دل على قضاء سنة الفجر فقلنا به، وكذا ما روي عن عائشة في سنة الظهر كما يأتي، ولذا نقول: لا تقضى سنة الظهر بعد الوقت فيبقى ما وراء ذلك على العدم كما في الفتح".
(كتاب الصلاة، باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:58، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710101188
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن