
میرا جب بچہ پیدا ہوا تو میں نے بیوی کو بولا کہ اگر یہ بچہ کسی اور کا ہوا تو آپ کو طلاق ہے، لیکن چوں کہ اس بچے کہ اندر ایک نشان تھا جو نشان میرے جسم پر بھی ہے اسی مقام پر ،جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ میرا بچہ ہے ، میں نے کوئی ڈی این اے نہیں کروایا، بلکہ میں نے خود بتایا کہ یہ میرا بچہ ہے ،میرا مطلب ہرگز بیوی کے اوپر الزام لگانا نہیں تھا، بلکہ میں شکی مزاج کا ہوں ،تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں بہر صورت یہ بچہ آپ ہی کا ہے ،پس مذکورہ الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،نیز شکوک شبہات شیطان کی طرف سے انسان کو پریشان کرنے کے واسطے ہوتے ہیں اور شیطان کی مخالفت کا حکم ہے، لہذا کثرت سے "لا حول ولا قوة الا بالله "اور "اعوذ بالله من الشيطان الرجيم"پڑھیں ،شکوک و شبہات کا مقابلہ کریں اور اس کی طرف دھیان نہ دیں۔
الدر المختار مع الرد میں ہے:
"(وتثليث الغسل) المستوعب؛ ولا عبرة للغرفات، ولو اكتفى بمرة إن اعتاده أثم، وإلا لا، ولو زاد لطمأنينة القلب أو لقصد الوضوء على الوضوء لا بأس به وفي الرد :(قوله: لطمأنينة القلب) لأنه أمر بترك ما يريبه إلى ما لا يريبه، وينبغي أن يقيد هذا بغير الموسوس أما هو فيلزمه قطع مادة الوسواس عنه وعدم التفاته إلى التشكيك؛ لأنه فعل الشيطان وقد أمرنا بمعاداته ومخالفته رحمتي، ويؤيده ما سنذكره قبيل فروض الغسل عن التتارخانية أنه لو شك في بعض وضوئه أعاده إلا إذا كان بعد الفراغ منه، أو كان الشك عادة له فإنه لا يعيده ولو قبل الفراغ قطعا للوسوسة عنه. اهـ"
(کتاب الوضوء،سنن الوضوء،ج:1،ص:119،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101321
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن