بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر والدین سودی لین دین کرتے ہوں، تو ان کی زندگی اور وفات کے بعد اولاد کی ذمّہ داری


سوال

اگر والدین نے اپنی زندگی میں سودی لین دین کیا ہو، تو اُن کی زندگی یا وفات کے بعد اگر اولاد اُس حساب سے بغیر ثواب کی نیت کے، صرف کفارے کے طور پر پیسے دے، تو کیا والدین کا سود کرنے کا گناہ معاف ہو جاتا ہے؟

جواب

اگر والدین نے اپنی زندگی میں سودی لین دین کیا ہو، تو اصل ذمّے داری انہی کی ہے کہ وہ سود پر حاصل کردہ رقم کے بقدر اگر مالکان معلوم ہوں تو انہیں واپس کردیں، اور اگر مالک معلوم نہ ہو ، تو  اتنی رقم ثواب کی نیت کیے بغیر فقراء میں صدقہ کردیں، اور اپنے سودی معاملات سے صدقِ دل کے ساتھ توبہ کریں۔

اسی طرح اگر والدین کی زندگی میں ہی اولاد اُن کی طرف سے سودی رقم اصل مالکان کو واپس کردے، اگر مالکان معلوم نہ ہوں تو اتنی رقم فقراء کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دے، اور والدین خود بھی سچے دل سے توبہ تائب ہوں، تو ان شاء اللہ! اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمائیں گے۔

لیکن اگر والدین وفات پا چکے ہوں، اور انہوں نے سودی رقم نہ اصل مالک کو واپس کی ہو، اور نہ ہی اُسے فقراء میں ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کیا ہو، تو ایسی صورت میں اولاد کی ذمّے داری ہے کہ وہ سود پر لی گئی رقم اصل مالکان کو واپس کرے؛ کیوں کہ یہ رقم اولاد کے لیے حلال نہیں ہے۔ اگر اصل مالکان معلوم نہ ہو، تو ایسی رقم کو  فقراء میں ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دے۔ ان شاء اللہ! اولاد کے اس عمل سے نہ صرف والدین اس مالی ذمّے داری سے سبکدوش ہو جائیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے اُمید ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اُن کے اس گناہ کو بھی معاف فرما دیں گے۔

اس کے علاوہ اولاد کو چاہیے کہ والدین کے لیے وقتاً فوقتاً دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کا اہتمام کرتی رہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"إذا علم أن كسب مورثه حرام يحل له، لكن إذا علم المالك بعينه فلا شك في حرمته ووجوب رده عليه، وهذا معنى قوله وقيده في الظهيرية إلخ، وفي منية المفتي: مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطلب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه. اهـ وكذا لا يحل إذا علم عين الغصب مثلا وإن لم يعلم مالكه، لما في البزازية أخذه مورثه رشوة أو ظلما، إن علم ذلك بعينه لا يحل له أخذه، وإلا فله أخذه حكما أما في الديانة فيتصدق به بنية إرضاء الخصماء اهـ. والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه."

(كتاب البیوع، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج،5، ص،99، ط:ایج ایم سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"والأصل فيه أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة قرآن أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرة أو غير ذلك عند أصحابنا للكتاب والسنة."

‌‌(كتاب الحج، باب الحج عن الغير، ج:3، ص:63، ط:دار الكتاب الإسلامي القاهرة)

حاشيۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  میں ہے:

"فلإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة صلاة أو صوما أو حجا أو صدقة أو قراءة قرآن أو الأذكار أو غير ذلك من أنواع البر ويصل ذلك إلى الميت وينفعه قال الزيلعي في باب الحج عن الغير وعن علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من مر على المقابر فقرأ قل هو الله أحد إحدى عشرا مرة ثم وهب أجرها للأموات أعطي من الأجر بعدد الأموات." رواه الدارقطني.

وفي حاشيته (قوله: فللإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره عند أهل السنة والجماعة) سواء كان المجعول له حيا أو ميتا من غير أن ينقص من أجره شيء وأخرج الطبراني والبيهقي في الشعب عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا تصدق أحدكم بصدقة تطوعا فليجعلها عن أبويه فيكون لهما أجرها ولا ينقص من أجره شيء."

(کتاب الصلاة، باب أحکام الجنائز، فصل في زیارة القبور، ص:622، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں