بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر والد کی کمائی حرام ہو تو گھر والوں کے لیے حکم


سوال

اگر والد بینک سے سودی معاملات کرتا ہو، اور اولاد کے بار بار منع کرنے کے باوجود وہی سودی رقم استعمال کرتا ہو، مثلاً: انہی پیسوں سے گھر کا سامان، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ خریدی جاتی ہوں، تو کیا ایسی صورت میں اولاد بھی گناہ گار ہوگی؟

جواب

اگر والد کی کمائی واقعی سودی ہو، تو ایسی صورت میں گھر والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ والد کو حرام ذریعۂ آمدن چھوڑنے کی بھرپور کوشش کرتے رہیں، اور خاندان کے معزز و بااثر افراد کے ذریعے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کریں۔

اگر تمام تر کوششوں کے باوجود وہ سودی کمائی سے باز نہ آئے، تو ایسی صورت میں اگر اس کی بیوی کے لیے اپنے اخراجات کسی جائز طریقے سے برداشت کرنا ممکن ہو، تو اس پر لازم ہے کہ شوہر کی حرام کمائی سے پرہیز کرے، اور اس کے مال سے کھانا نہ کھائے،لیکن اگر جائز ذریعۂ معاش ممکن نہ ہو اور بیوی مجبوری میں ہو، تو اس صورت میں شوہر کے مال سے کھانا جائز ہوگا، مگر حرام کھلانے کا گناہ شوہر کے ذمّہ ہوگا۔

اور نابالغ اور چھوٹے بچوں کو چونکہ خود کمائی کی قدرت نہیں ہوتی؛ اس لیے ان کے لیے ایسی صورت میں والد کی آمدنی سے کھانا جائز ہے، گناہ ان پر نہیں، بلکہ کمائی کرنے والے پر ہوگا۔ البتہ گھر کے بالغ افراد جو کمائی کی استطاعت رکھتے ہوں، ان کے لیے لازم ہے کہ خود محنت کرکے روزی کمائیں، اور والد کی حرام کمائی سے کھانے سے اجتناب کریں۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"المال الحرام كالمأخوذ غصباً أو سرقةً أو رشوةً أو رباً أو نحو ذلك ليس مملوكاً لمن هو بيده."

(زكاة، زكاة المال الحرام، ج:23، ص:248، ط:دارالسلاسل الكويت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ففي الذخيرة: سئل الفقيه أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله ‌والإثم ‌على ‌الزوج. اهـ(قوله وسنحققه ثمة) أي في كتاب الحظر والإباحة. قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى: مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه. اهـ. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل."

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:99، ط:ايج ايم سعيد)

وفيه أيضاً:

"وفي جامع الجوامع: اشترى الزوج طعاما أو كسوة من مال خبيث جاز للمرأة أكله ولبسها ‌والإثم ‌على ‌الزوج تتارخانية."

(كتاب الغصب، ج:6، ص:191، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں