
میرےچھ بچے ہیں، میرے شوہر کا انتقال چار سال پہلے ہو چکا ہے، ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، بیٹا بچوں کے ساتھ امریکہ چلاگیا ہے، اور ایک بیٹی میرے ساتھ رہ رہی ہے، میرے پاس اس گھر کے علاوہ کوئی اورگھر رہائش کےلیےنہیں ہے،میں یہ گھر بیچ کر بچوں میں وراثت تقسیم کرنا چاہتی ہوں، لیکن گھر کے کاغذات میں کچھ مسئلہ ہے، اسی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، مجھے یہ جاننا ہے کہ اس تاخیر کا گناہ مجھ پر تو نہیں ہوگا؟ اور وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟ مجھے کتنا حصہ ملےگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کے ورثاء میں سے کوئی بھی وراثت کا مطالبہ نہیں کررہا، اور سائلہ کو اس گھر میں تمام ورثاء رہنے کی اجازت دے رہے ہوں تو ایسی صورت میں سائلہ کےلیے فوری طور پر میراث تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی وارث اپنے حصہ کا مطالبہ کررہا ہے،اور گھر کے کاغذات میں کچھ مسئلہ ہےاور سائلہ بلاوجہ گھر کے بیچنے میں تاخیر بھی نہیں کررہی ہےتو اس صورت میں سائلہ پر میراث کی تقسیم نہ کرنے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا،تاہم بہتر یہ ہے کہ جتنا جلد ہوسکے میراث تقسیم کردینی چاہیے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اسے باقی مال کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ( منقولہ و غیر منقولہ) کو 8حصوں میں تقسیم کرکے1 حصہ مرحوم کی بیوہ کو، 2حصے مرحوم کے بیٹے کو، اورایک ایک حصہ مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملےگا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:8
| بیوہ | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5فیصد مرحوم کی بیوہ(یعنی سائلہ) کو،25 فیصد مرحوم کے بیٹے کو، 12.5 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کوملیں گے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا طلب أحد الشريكين القسمة و أبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما."
(كتاب القسمة، ج:5، ص:231، ط: رشیدیة)
درر الحكام میں ہے :
"إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها فيقسمه القاضي جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم."
(الكتاب العاشر الشركات، باب في بيان القسمة ، المادة 1130، ج:3، ص:128، ط:دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100663
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن