
میں نے اپنی بیوی کو ایک بات کسی کو بتانے سے منع کیا تھا۔ بعد میں میں نے اس سے کہا: "اگر تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو انجام اچھا نہیں ہوگا" یا یہ کہا تھا کہ "اچھا نہیں ہوگا"۔
اس وقت میری طلاق دینے کی نیت نہیں تھی، البتہ میرے ذہن میں مختلف خیالات آ رہے تھے۔ ایک خیال یہ آیا کہ اگر اس نے بات بتائی تو میں اسے خود طلاق دے دوں گا۔ پھر یہ خیال آیا کہ طلاق نہیں دوں گا، لیکن اس کے ساتھ نہیں رہوں گا۔ اس کے بعد تیسرا خیال یہ آیا کہ اگر ایسا ہوا تو اسی وقت دیکھوں گا کہ کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد کوئی اور خیال نہیں آیا۔
البتہ طلاق کی نیت موجود نہیں تھی۔ صرف لفظ "انجام" کی وجہ سے ذہن اس طرف چلا گیا تھا، لیکن میری پختہ سوچ یہی تھی کہ اگر ایسی صورت پیش آئی تو اسی وقت فیصلہ کروں گا کہ کیا کرنا ہے۔ مقصد صرف بیوی کو ڈرانا تھا۔
مجھے طلاق کے بارے میں بہت زیادہ وسوسے آتے ہیں۔ کبھی یوٹیوب وغیرہ پر کوئی مسئلہ سن لیتا ہوں تو ابتدا میں محسوس ہوتا ہے کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب وہی مسئلہ تین چار مرتبہ سن لیتا ہوں تو اسی کے بارے میں سوچنے لگ جاتا ہوں اور پھر دھندلا سا گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید میرے ساتھ بھی ایسا معاملہ ہوا ہو، حالانکہ یقین نہیں ہوتا اور نہ ہی پوری بات صحیح طرح یاد آتی ہے۔
مزید یہ کہ ایک قریبی مفتی صاحب نے دو مرتبہ مجھے مشورہ دیا کہ کسی ماہرِ نفسیات یا دماغی ڈاکٹر سے رجوع کروں، اور میرے مدرسے کے استاد نے بھی کہا کہ ان وساوس کی طرف توجہ نہ دیا کروں۔
اب مجھے وسوسہ آ رہا ہے کہ شاید میں نے انہیں پوری بات نہیں بتائی تھی، اسی لیے انہوں نے طلاق واقع نہ ہونے کا جواب دیا۔ میں اس قسم کے وساوس کی وجہ سے بہت پریشان رہتا ہوں، البتہ کسی معتبر مفتی سے فتویٰ معلوم کر لینے سے کچھ اطمینان ہو جاتا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل نے بیوی کو یہ جملہ کہا:"اگر تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو انجام اچھا نہیں ہوگا" یہ الفاظ نہ صریح طلاق کے ہیں اور نہ کنایہ طلاق میں داخل ہیں،بلکہ یہ محض دھمکی اور وعید کے الفاظ ہیں ۔لہذا ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، خواہ یہ جملہ کہتے وقت سائل کے ذہن میں طلاق کا خیال ہو نہ خیال نہ ہو ، یا نیت طلاق ہو یا نیت طلاق نہ ہو،کیوں کہ طلاق واقع ہونے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے جو صراحتاً یا کنایتاً طلاق پر دلالت کرتے ہوں ، جب کہ مذکورہ جملہ طلاق کے معنی پر دلالت نہیں کرتا۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، نکاح بدستور برقرار ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"فالحد الصحيح قولنا رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص فخرج بقيد النكاح الحسي، والعتق وباللفظ المخصوص الفسخ لأن المراد به ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا وكناية وسائر الكنايات الرجعية، والبائنة ولفظ الخلع وقول القاضي فرقت بينكما عند إباء الزوج عن الإسلام، وفي العنة، واللعان ودخل الرجعي بقولنا أو مآلا وهاهنا أبحاث الأول أنهم قالوا ركنه اللفظ المخصوص الدال على رفع القيد فكان ينبغي أن يعرفوه به فإن حقيقة الشيء ركنه فعلى هذا هو لفظ دال على رفع قيد النكاح الثاني أن القيد صيرورتها ممنوعة عن الخروج، والبروز كما صرح به في البدائع في بيان أحكام النكاح ورفعه يحصل بالإذن لها في الخروج، والبروز فكان هذا التعريف مناسبا للمعنى اللغوي لا الشرعي.
ولذا قال في البدائع: ركن الطلاق اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية، والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكنايات أو شرعا وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ اهـ."
(كتاب الطلاق، ج:3، ص:252، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی شامی ہے:
"وألفاظه: صريح، وملحق به وكناية:
(قوله صريح) هو ما لا يستعمل إلا في حل عقدة النكاح سواء كان الواقع به رجعيا أو بائنا كما سيأتي بيانه في الباب الآتي (قوله وملحق به) أي من حيث عدم احتياجه إلى النية كلفظ التحريم أو من حيث وقوع الرجعي به وإن احتاج إلى نية: كاعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة أفاده الرحمتي (قوله وكناية) هي ما لم يوضع للطلاق واحتمله وغيره كما سيأتي في بابه."
(كتاب الطلاق، ج:3،ص:230، ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801102411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن