بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر تم نے ان کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرا اور تمہارا رشتہ ختم


سوال

میں نے دو مرتبہ ایک لڑکی کے گھر نکاح کے لیے پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑکی کی عمر چھوٹی ہے۔ پھر ان کی طرف سے یہ بات آئی کہ اگر یہ ہمارے گھر آجائیں تو ہم اس معاملے پر بات کر لیں گے۔ لیکن میرے والد نے اس معاملے میں بہت سختی دکھائی، یہاں تک کہ میری والدہ سے کہا کہ" اگر تم نے ان کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرا اور تمہارا رشتہ ختم۔" اب میرے والد والدہ سے اصرار کر رہے ہیں کہ رشتے کے سلسلے میں وہاں جائیں، اور والدہ کہہ رہی ہیں کہ اگر کوئی فتوی مل جائے کہ اس سے ہمارے رشتے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو وہ جانے کے لیے تیار ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا میری والدہ کے وہاں رشتہ لے کر جانے سے میرے والد اور والدہ کے رشتے پر کوئی اثر پڑے گا؟

جواب

صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ اگر سائل کے والد نے طلاق کی نیت سے اپنی بیوی  (سائل کی ماں )کو کہا ہو:"اگر تم نے ان کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرا اور تمہارا رشتہ ختم "،تو اس صورت میں سائل کی ماں کےوہاں جانے سے  اس پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور نکاح ختم ہو جائے گا، اس کے بعد اگر سائل کے والد اورسائل کی ماں  باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں، تو باقاعدہ نئے مہر اور شرعی گواہوں کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا۔ اس صورت میں شوہر کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

اور اگر مذکورہ جملہ کہتے وقت شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی، تو بیوی  کے وہاں جانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اور نکاح بدستور قائم رہے گا۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"ولو قال لها ‌لا ‌نكاح ‌بيني وبينك أو قال لم يبق ‌بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى."

(كتاب الطلاق، الفصل الخامس في الكنايات في الطلاق، ج : 1، ص : 375، ط : دار الفكر)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"فإذا علق الطلاق بشرط وقع عقيبه وانحلت اليمين وانتهت إلا في " كلما "، ولا يصح التعليق إلا أن يكون الحالف مالكا كقوله لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق، أو يقول لعبده: إن كلمت زيدا فأنت حر، أو يضيفه إلى ملك كقوله لأجنبية: إن تزوجتك فأنت طالق، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق أو كل عبد أشتريه فهو حر. وزوال الملك لا يبطل اليمين، فإن وجد الشرط في ملك انحلت ووقع الطلاق، وإن وجد في غير ملك انحلت ولم يقع شيء."

(كتاب الطلاق، تعليق الطلاق، ج : 3، ص: 140، ط : دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101526

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں