بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر تم عدالت سے خلع لینا چاہو تو لے لو، کہنے سے خلع کا حکم


سوال

میری بیوی امید سے تھی کہ  میں نے دو مرتبہ اس کی رضامندی کے بغیر ازدواجی تعلق قائم کیا، ڈاکٹر نے اس وقت احتیاط کا مشورہ دیا تھا، پھر مجھے اپنی غلطی کااحساس ہوا تو میں نے بیوی سے تنہائی میں اور سب کے سامنے  معافی مانگی۔

میرے سسر نے مجھے کچھ مرتبہ کہاتھا کہ: ہم عدالت سے جا کر خلع لے لیں گے، میری بیوی میکے میں تھی کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں کہا: اگر تم عدالت سے خلع لینا چاہو تو لے لو، میں عدالت نہیں جاؤں گا، البتہ جب بچہ کی پیدائش ہو گی تو میں عدالت میں جا کر تمہیں بدکردار ثابت کرکے بچہ اپنے پاس رکھ لوں گا اور تم بس بچے کو دودھ پلانے کے لیے رہ جاؤ گی۔تو میری بیوی اس بات پر رونے لگی، پھر میں نے   بیوی سے معافی مانگی اورگھر آ گیا،پھر   سب کے سامنےبھی  اپنی غلطی قبول کی، پھر اس واقعے کے تقریبا پندرہ بیس دن بعد  بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کر دیا۔

میں بھی عدالت میں حاضر ہوتا رہا،فیصلے والے دن جج نے مجھے اور میری بیوی کو کہا کہ میں  آپ دونوں کے درمیان ابھی خلع نہیں کروں گا، نیز اس نے کہا تھا کہ: میں تم دونوں کو دوبارہ بلوا کر اپنے ساتھ بٹھاؤں گا۔ لیکن پھر جج نے میری غیر موجودگی میں  خلع دے دی تھی، مجھے بعد میں پتہ چلا۔ تو کیا اس صورت   میں خلع واقع ہو گئی ہے؟ جب کہ میں جج کے اس خلع کے فیصلے پر راضی نہیں ہوں، اور نہ ہی میں نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے۔

جواب

صورت مسئولہ میں  جب آپ نے اپنی بیوی کو غصہ میں یہ کہا تھا کہ: ”اگر تم عدالت سے خلع لینا چاہوتو لے لو“ تو یہ الفاظ آپ کی طرف سے بیوی کو عدالت سے خلع لینے کی اجازت دینے پر دلالت کرتے ہیں، لہذا جب بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کیااور عدالت نے خلع واقع کر دی، تو اس کی وجہ سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے، اور آپ  کااپنی بیوی سے نکاح ختم ہوگیا ہے، اگرآپ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں توباہمی رضامندی سے نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"إذا قال لها اخلعي نفسك فهو على أربعة أوجه: إما أن يقول بكذا فخلعت يصح وإن لم يقل الزوج بعده: أجزت، أو قبلت على المختار؛ وإما أن يقول بمال ولم يقدره، أو بما شئت فقالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده، وإما أن يقول اخلعي ولم يزد عليه فخلعت، فعند أبي يوسف لم يكن خلعا. وعن محمد تطلق بلا بدل، وبه أخذ كثير من المشايخ."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3، ص: 440، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100529

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں