
میرے خاوند نے مجھے فون کر کے کہا کہ "میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے ،میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے، میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے، صحیح ہے، میں تمہیں چھوڑ چکاہوں۔"پھر میں نے پوچھا : کیا یہ بات تمہاری والدہ یعنی میری ساس کو بھی معلوم ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میری والدہ کو بھی معلوم ہے کہ میں تمہیں چھوڑ چکا ہوں، حالانکہ ان کی والدہ کو اس بات کا علم نہیں تھا ۔اصل میں ان کا دماغ بھاری رہتا ہے،مطلب ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ میں کیا بول رہا ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے کوئی رجوع نہیں کیا ۔
ہم نے کسی مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انھوں نےفرمایا کہ طلاق ہو گئی ہے،لہذا آپ عدت گزاریں،چونکہ میں حاملہ تھی اس لیے میں نے بچے کی پیدائش تک عدت گزاری، اب بچہ پیدا ہو چکا ہے جو کہ میرے پاس ہے ۔
وضاحت: مذکورہ الفاظ کہتے وقت خاوند کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔
اب سوال یہ ہے :
1-کیا ان الفاظ سے طلاق ہوگئی تھی یا نہیں؟
2- میں نے جو عدت گزاری اس کا کیا حکم ہے؟
3-اور بچے کی تربیت کا حق کس کا ہے ؟
1-صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعتا صحیح ہے کہ اس کے شوہر نے فون کرکے یہ کہا کہ ''میرا تمہارا کوئی واسطہ نہیں ہے '' اور تینوں مرتبہ یہ الفاظ ادا کرتے وقت شوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی ،اور مطالبہ پراس پر قسم بھی اٹھالے تو طلاق کے ان کنایہ الفاظ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی،تاہم اسی گفتگو کے دوران شوہر کایہ کہنا کہ ''میں تمہیں چھوڑ چکا ہوں''، اس جملہ سے سائلہ پر اسی وقت ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی۔ایک طلاق رجعی کے بعد شوہر نے اگر واقعتا دوران عدت قولی یا فعلی کسی بھی اعتبار سے رجوع نہیں کیا تو بچہ پیدا ہو نے سے نکاح ختم ہوگیا، اب رجوع جائز نہیں ہے۔
2-سائلہ اب جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ البتہ اگر سائلہ اپنے سابق شوہر کے ساتھ دوبارہ رہنا چاہے تو نئے مہر کے ساتھ، اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب و قبول کے ذریعے تجدید نکاح کے بعد باہم میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ نیز دوبارہ نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ کے لیے دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔
3-میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں سات سال تک بچے کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، لہٰذا بیٹے کی عمر جب تک سات سال مکمل نہ ہوجائے، سائلہ انہیں اپنی پرورش میں رکھنے کی شرعا حق دار ہو گی، البتہ اس عرصہ میں اگر سائلہ نے کسی شرعی عذر کی بناء پراپنے بچے کی پرورش نہ کرسکتی ہیں توپرورش کا حق بچے کی نانی،دادی،خالہ اورپھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا ، مذکورہ عمر مکمل ہونے کےبعدبچے کی تربیت کی ذمہ داری والد کی ہوگی، البتہ اگر والد سات سال عمر مکمل ہونے کے باوجود بچےکو ان کی والدہ کے پاس چھوڑنےپر راضی ہو،تو ایسا کرنےکی اسےاجازت ہوگی، بہرصورت بچہ والد،والدہ میں سے جس کےساتھ رہیں،ان کے تمام اخرجات کی ذمہ داری والد کی ہوگی،پس اپنی حیثیت و مالی استطاعت کے بقدر والد پر ان کے اخراجات اٹھانا شرعًا لازم ہوگا۔
نیز بچہ چاہے والدہ کے پاس رہیں یا والدکے پاس بہر صورت والدین کو اپنے بچےسے ملنےکی اجازت ہوگی،کسی ایک فریق کے لیے دوسرے فریق کو بچے سے ملاقات کرنے سے منع کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
فتاوى عالمگيرية میں ہے:
"وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية."
(کتاب الطلاق، باب رکن الطلاق، ج:1، ص:376، ط:دار الفكر بيروت )
حاشية ابن عابدين میں ہے:
"وقد مر ان الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفا الافيه من اي لغة كانت،وهذا في عرف زمانناكذلك فوجب اعتباره صريحا."
(كتاب الطلاق،باب الكنايات، ج:3، ص:252 ط:ايچ ايم سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان من له الحضانة، فالحضانة تكون للنساء في وقت، وتكون للرجال في وقت، والأصل فيها النساء؛ لأنهنّ أشفق وأرفق وأهدى إلى تربية الصغار، ثم تصرف إلى الرجال؛ لأنهم على الحماية والصيانة وإقامة مصالح الصغار أقدر."
(كتاب الحضانة، وأما بيان من له الحضانة، ج:8 ص:234، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1 ص:560 ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100777
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن